اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 707
اقترب للناس ١٧ ۷۰۷ الحج ٢٢ نذير مبين کھلا ڈر سنانے والا ہوں۔فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَهُمْ ۵۱۔تو جو لوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے تو مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي أَيْتِنَا مُعْجِزِيْنَ أُولَيكَ ۵۲۔اور جو دوڑے ہماری آیتوں میں عاجز کرنے اور ہرانے کو تو یہی لوگ جہنمی ہیں۔أَصْحَبُ الْجَحِيمِ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا ۵۳۔اور ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر اس کو یہ بات پیش آئی کہ نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ فِي اس نے جب کچھ آرزو کی لے تو شریر و بد کار اس أمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ کی خواہش میں روک ڈالنا چاہتے ہیں کے تو اللہ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ الله وَاللهُ عَلِيمٌ تعالى شیطان کی خواہش کو مٹا دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے اور پھر اپنی آیتوں کو مضبوط کرتا ہے ے کہ مامور کہیں کا میاب نہ ہو جائے۔ا یعنی دین میں کام یابی کی۔آیت نمبر ۵۳ - مَا يُلْقِي الشَّيْطنُ - غلط باتیں غلط ثابت ہو گئیں اور القائے شیطان دور ہو گئے۔حق اور سچی باتیں رہ گئیں۔غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے يُحكم الله - بعض مفسرین کی عادت ہے کہ بعض آیات قرآنی کے متعلق کوئی قصہ گھڑ لیتے ہیں اور کوئی شانِ نزول قرار دے لیتے ہیں۔چنانچہ اس آیت شریف کی تفسیر میں ایک قصہ نقل کرتے ہیں۔سورہ نجم کی آیت وَمَنُوةَ الثَّالِثَةَ الأخرى (النجم: (۲۱) کے بعد آنحضرت نے شیطان کے القا سے یہ جملہ پڑھا تھا نعوذ بالله منها - تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرتَجى اس سے بُت پرست بہت خوش ہوئے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جبرئیل نے تنبیہ کر دی کہ یہ شیطانی الہام تھے اَسْتَغْفِرُ اللهَ الْعَظِيمِ یہ قصہ ہی سراسر لغو ہے جس کی تردید امام فخر الدین رازی اور صاحب مدارک اور بیضاوی وغیرہ محقق نے دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت کر دی۔نزول وحی اللہ کے ساتھ بڑا انتظام ہوتا ہے چنانچہ سورہ جن میں فرمایا ہے فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا (الجن : ۲۸)۔