اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 703
اقترب للناس ١٧ ۷۰۳ الحج ٢٢ الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا ان کے سوا جو پڑھی گئیں تم پر آیتیں تو بچتے رہو بتوں کی نجاست سے اور جھوٹی بات سے۔قَوْلَ النُّورِة حُنَفَاءَ لِلهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهِ وَمَنْ ۳۲ - سب سے ہٹ کر ایک ہی اللہ کے ہو کر اس کا کسی کو شریک نہ کر کے ( رہو ) اور جو اللہ کا يُشْرِكْ بِاللهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ شریک کرے تو وہ ایسا ہے جیسا وہ گر پڑا آسمان فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِى بِهِ الرِّيحُ سے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا اس کو ہوا دور دراز مکان میں لے جا کر ڈال دے۔فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ ذلِكَ وَمَنْ يُعَظْمُ شَعَابِرَ اللهِ فَإِنَّهَا ۳۳۔یہ تو ہو چکا اور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ۔نامزد چیزوں کی تو کچھ شک نہیں کہ یہ بات دلی تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ۳۴۔تمہارے لئے ان میں فائدے ہیں ایک ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ العتيق اے معین وقت تک پر ان کو پہنچا ہے ایک قدیم گھر تک۔وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا ۳۵۔اور ہر ایک اُمت کے لئے ہم نے ایک قربانی گاہ اور عبادت گاہ کا طریقہ مقرر کر لیا ہے اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ تا کہ وہ اللہ کا نام لیں اُن جانوروں پر (ذبح الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَلَةٌ کے وقت ) جو اللہ نے دی ہیں ان کو۔تم سب لوگوں کا اللہ تو وہ ایک ہی اللہ ہے تو اسی کے فدائی فرمانبردار بنو (اے پیارے محمد !) تو أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ خوشخبری سنادے ان عاجزی کرنے والوں کو۔الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ ۳۶۔جو ایسے ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے لے یعنی شرک بڑی خطر ناک چیز ہے۔(بقیہ حاشیہ) قَوْلَ النُّورِ۔چونکہ بت اور جھوٹ مفہوماً وغرضاً ایک ہیں اس لئے قرآن مجید میں قریب قریب بیان کئے گئے۔بتوں کے ساتھ جھوٹی بات کو بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہالت سے فرضی تصرف کا انہیں قابل سمجھا جاتا ہے اسی طرح جھوٹا اپنی جھوٹی بات کو سمجھ رہا ہے۔