اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 702
اقترب للناس ١٧ ۷۰۲ الحج ٢٢ وَأَطْعِمُوا الْبَابِسَ الْفَقِيرَةُ مصیبت زدہ محتاجوں کو۔ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمُ ۳۰۔پھر چاہئے کہ دور کر دیں اپنے میل کچیل اور اپنی منتیں پوری کریں اور طواف کریں اس قدیم و وَلْيَطَوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ مقدس گھر کا۔ذلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَتِ اللهِ فَهُوَ ۳۱۔یہ فکر کرنے کی باتیں ہیں اور جو تعظیم خَيْرٌ لَّهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ کرے اللہ کی تعظیم دار چیزوں کی تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اس کے رب کے نزدیک۔اور الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا تمہارے لئے حلال کر دئیے گئے چوپائے خاص آیت نمبر ۳۰۔تَفتَهُمْ۔یعنی حج میں قربانی کر کے احرام کھول دیں حجامت بنوائیں، نہائیں دھوئیں ، میل کچیل دور کریں۔وَلْيَطوفُوا۔ایک ناواقف نے یہاں اعتراض کیا کہ طواف وسجدہ کعبہ کا پرستش بغیر اللہ ہے یا نہیں؟ اس کا یہ جواب ہے کہ پرستش کے معنے معلوم نہ ہونے کے سبب اس قسم کے بہت سے غلط سوالات پیدا ہوتے ہیں اور مشرک اور موحد میں فرق نہیں رہتا۔سناتن اور آریہ۔برہمو۔صابی۔عیسائی۔مسلمان وغیرہ سب نے مان رکھا ہے کہ ایک یا کئی وجود جو ہمارے لئے مفید یا مضر ہوں ان سے فائدہ حاصل کرنے یا مضرت ہو چکنے کے لئے دھیان اور یاد، پھر اس کی مدح۔پھر اپنے مطلب کا اُبھار اُس سے کیا جاتا ہے۔پھر اپنے افعال پر اس کی عظمت کا اثر ڈال کر عاجزانہ تذلیل کی حرکتیں کی جاتی ہیں۔اسی کا نام پرستش ہے مگر مکہ یا مسجد یا کسی اور مقاموں میں جہاں ہم اللہ کی نماز پڑھتے ہیں یا عبادت کرتے ہیں ساری نمازیں اور تمام عبادت میں نہ تو اس مقام کا نام نہ دھیان ، نہ اس سے کچھ مطلب وغیرہ امور مذکورہ کئے جاتے ہیں۔دوسرے معاہد گرتے پڑتے بھی ہیں مگر عبادت میں تو اس سے کچھ ہرج نہیں۔تیسرے پرستش کے لئے اصلی فاعل روح ہے اور وہ جہت نہیں رکھتی ہاں جسم کی یہ خاصیت ہے کہ اس کی توجہ کسی خاص طرف ہو اس لئے ہر ایک پرستار کو کسی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے نہ روح کو۔آیت نمبر ۳۔وَمَنْ يُعَظمُ۔جس کو خدا نے بڑا بنایا اس کی تعظیم کرنا چاہئے مثلاً مامور اور کلام الہی و حاکم و استاد و ماں باپ وغیرہ کی۔الانعام۔قربانیوں میں ترقیات کا اصل الاصول ہے۔دنیا میں کوئی مذہب وسلطنت نہیں جس میں قربانی کی رسم نہ ہو تو بغیر اس کے کمال اور افزونی حاصل نہیں ہوتی۔چو باغباں برد بیشتر دہد انگور۔قربانیوں کے اور اسرار بھی اپنے اپنے محل پر بیان کئے گئے ہیں۔