اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 701
اقترب للناس ١٧ الحج ٢٢ وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ کے آیا کریں وہ تیری طرف پا پیادے اور سوار ہو کر دہلی دہلی اونٹنیوں پر جو ہر ایک دور و دراز رستوں سے آویں گے۔فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ ۲۹۔تا کہ حاضر ہو جاویں اپنے فائدوں کے لئے اللهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَةٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ اور اللہ کا نام لیں چند معلوم وقتوں میں ان مویشیوں چوپایوں کے ذبح کرنے پر جو اللہ نے مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۚ فَكُلُوا مِنْهَا ان کو دی ہیں تو اس میں سے کھاؤ اور کھلاؤ آیت نمبر ۲۹۔لِيَشْهَدُوا۔حضرت حکیم الامت مولانا وسید نا مولوی نورالدین صاحب کا بیان ہے کہ میں نے غور کیا ہے کہ حج میں کیا کیا فائدے ہیں۔ان کثیر فائدوں میں چند یہ ہیں (۱) وضعداری جو امراء وغیرہ سُست انسانوں میں بہت ہوتی ہے اور بڑی خراب تکلیف دہ چیز ہے اس کا ازالہ ہو۔امیر ہو خواہ بادشاہ اس کو بھی دو ہی چادر ہیں۔(۲) دوست احباب وغیرہ کا ترک کرنا خاص خدا کے لئے۔(۳) چوکس و ہوشیار بنانا۔(۴) انانیت اور تکبر چھڑانا۔(۵) مجمع عام کی دعائیں جواکثر مقبول ہوتی ہیں۔(۶) دولت مندوں کے لئے ساری دنیا کے عجائب و تجارب و تجارت وغیرہ کے نظارے واطلاع ہو۔(۷) مکہ شریف میں اڑھائی سو سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں وہ سیکھے۔اور مکہ معظمہ کے زائروں میں بڑی بڑی خوبیاں ہوتی ہیں۔(۸) اللہ جل جلالہ کی عظمت کا نشان دیکھتا ہے کہ وادی غیر ذی زرع کو کیسا آباد کر دیا۔خشک پہاڑ جہاں بارش نہیں، گھاس تک نہیں وہاں انواع و اقسام کی نعمتیں موجود کر دیں۔(۹) رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیوں کی عظمت دکھتی ہے۔(۱۰) عرفانِ الہی کا مظہر۔(۱۱) ہر مقصد کے حاصل ہونے کی جائے۔اَيَّامٍ مَّعْلُومَت۔یعنی عشرہ ذی الحجہ اور یوم النحر اور اس کے بعد کے تین روز میں خدا کا ذکر اور قربانی کرو۔بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ۔قربانی عظیم الشان واقعہ کا یادگار ہے یعنی حضرت ابراہیم کے نوجوان بیٹے کا جس کی نسبت ذبح کا حکم ہوا۔اس وقت ابراہیم کی عمر سو برس کی تھی تو گویا حضرت ابراہیم کو عزت اور امید اور ارمان اور آرزوئیں سبھی کچھ قربان کرنا پڑا۔پھر نظارہ وہاں خوب نظر آتا ہے کہ اس حکم برداری کا نتیجہ حضرت ابرا ہیم کو کیا ملا اور صبر و استقلال کا سبق کیا پھل دیتا ہے اور صفا و مروہ پر جانے سے حضرت ہاجرہ کو کیا ملا۔نیاز مندی کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک خادمانہ دوسری عاشقانہ۔خادمانہ تو نماز و زکوۃ سے ادا ہوتی ہے جو ہر روز اور سالانہ کرنا ہوتی ہے اور عاشقانہ حج اور روزہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔حج دربار شاہی کی مثال ہے اور روزہ محبوب کے بلا اجازت ضرورت ذاتی کو ترک کرنے کی نظیر ہے جو عاشقانہ رنگ رکھتی ہے۔