اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 698
اقترب للناس ١٧ ۶۹۸ الحج ٢٢ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَ چاہیے آسمان تک ایک رسی تانے کے تصرف الہی کو کاٹ ڈالے اب دیکھ کہ کیا اس تدبیر نے اس کے غصہ کو کم کر دیا۔كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ وَكَذَلِكَ اَنْزَلْنَه ایتٍ بَيِّنَتٍ وَاَنَّ اللهَ ۱۷۔اسی طرح ہم نے قرآن اور رسول اللہ کو يَهْدِي مَنْ يُرِيدُ اتارا کھلی کھلی نشانیوں کے ساتھ اور بے شک اللہ را و راست کی سمجھ دے دیتا ہے جسے چاہے۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ الَّذِينَ هَادُوا وَ الصُّبِينَ ۱۸۔البتہ جولوگ ایمان لائے یعنی مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستاروں کے پوجنے والے ہے یعنی نیک بخت کو۔ا یعنی آسمان پر جا کر۔(بقیہ حاشیہ) ع گر تو نے پسندی تغیر کن قضا را لَنْ يَنْصُرَهُ الله میں ضمیر آگئی ہے یا اس آیت کا یہ مطلب ہے۔عبادت میں مطلب کا یار نہیں ہونا چاہیے۔عسر یسر میں قدم آگے بڑھانا چاہئے۔اگر تنگی دیکھ کر انسان خدا کو چھوڑے گا تو اس سے زیادہ مصیبت میں پڑے گا۔کوئی مصیبت آئے تو اس سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔جس شخص کو مایوسی یہاں تک پہنچا دے کہ وہ خدا پر ایسا سوء ظن کرے کہ خدا اُس پر کبھی رحم نہ کرے گا تو ایسا شخص اگر اپنی جہت سے رسا باندھ کر پھانسی لے لے اس سے بھی اس کو کچھ فائدہ نہیں کیونکہ جس خدا پر وہ بدظن ہے وہ خدا تو بعد الموت عالم برزخ میں بھی موجود ہے تو دنیا کے دکھ کی وجہ سے خود کشی کرنا بھی کسی خوشی کا موجب نہیں۔السَّمَاءُ کے معنی اَلسَّقْف کے آتے ہیں اور اَنْ لَّنْ يَنْصُرَهُ الله میں " کی ضمیر من کی طرف جاتی ہے۔مقصد یہ ہے کہ خدا پر حُسنِ ظن کر و اگر اس سے بدظنی کرو گے تو پھر تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ کے مصداق بنو گے۔مِنْ وَرَابِهِ جَهَنَّمُ وَ يُسْقَى مِنْ مَّاءٍ صَدِيدِ يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتِ - (ابراهیم : ۱۸،۱۷)۔آیت نمبر ۱۸ - والصبينَ۔تعویذ گنڈے ٹوٹکے وغیرہ کرتے ، ستاروں کا خیال رکھتے نقشِ بُدوح بناتے، صوفیانہ طبیعت رکھتے ، فیلسوفانہ دلائل سے بھی مانوس ہیں۔جن کے مثیل آج کل تھیو صوفیکل سوسائٹی جن میں پارسی مسلمان اور بعض انگریز اور ہنود وغیرہ جماعتیں شامل ہیں سمجھنا چاہیے۔( حاشیه در حاشیه نقش بڑوح: تلوار یا خنجر پر لکھا ہوا وہ نقش جو باری تعالیٰ کے صفاتی اسم کے طور پر دعاؤں اور تعویذوں میں مستعمل ہوتا ہے۔اردو لغت تاریخی اصولوں پر زیر لفظ نقش شائع کردہ اردو لغت بورڈ کراچی۔(ناشر)