اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 697
اقترب للناس ١٧ ۶۹۷ الحج ٢٢ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۚ وَإِنْ ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارہ پر دور دور پھر اگر اس کو نعمت مل گئی تو مطمئن ہو گیا اس سے أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِه اور اگر اس پر کوئی بلا آپڑی تو الٹا پھر گیا اپنے خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ منہ پر نتیجہ یہ کہ اس کی دین دنیا دونوں ٹوٹوں میں آئیں اور یہی بہت بڑا گھاتا ہے۔الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ يَدْعُوا مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا ۱۳۔اور پکارتے ہیں اللہ کے سوا ایسی چیز کو جو نہ انہیں کچھ ضرر ہی پہنچا سکتی ہے اور نہ نفع ہی یہی لَا يَنْفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلُلُ الْبَعِيْدُة ہے پرلے درجہ کی گمراہی۔يَدْعُوا لَمَنْ ضَرُّةً اَقْرَبُ مِنْ نَّفْحِه ۱۴۔ایسے کو پکارتا ہے جس کے نفع سے ضرر زیادہ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ ہے، کچھ شک نہیں کہ مولیٰ بھی بُرا ہے اور رفیق بھی بُرا ہے۔إِنَّ اللهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا ۱۵۔بے شک اللہ داخل کر دے گا اُن لوگوں کو جنہوں نے سچے دل سے اللہ کو مانا اور بھلے کام الصلِحَتِ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا کئے ایسے باغوں میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں الْأَنْهرُ إِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُه کچھ شک نہیں کہ وہ کرتا ہے جو چاہتا ہے (یعنی اچھوں کے ساتھ نیکی اور بُروں کے ساتھ بدی )۔مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنْصَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا ١٦ جو کوئی یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ اس کی وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ہرگز مدد نہ کرے گا دنیا اور آخرت میں تو اسے 1 یعنی دین یا نماز میں چھوڑ دیں۔(بقیه حاشیه ) عَلى حَرْفِ یعنی اطمینان واستقلال سے نہیں بے دلی و غرض وشستی سے جیسے آخر وقت نماز پڑھنا۔وغیرہ۔اِنْقَلَبَ عَلَى وَجْهه - یعنی دین یا نماز چھوڑ دی اور سمجھا کہ دین اور نماز ہم کو راست نہیں اور بعض لوگ نماز کو دنیوی اغراض کے حاصل ہونے کی وجہ سے پڑھا کرتے ہیں اسی طرح وظائف واعمال اور منافقانہ نماز واعمال صالحہ اگر ان میں نقصان آجائے تو نمازوں وغیرہ میں بھی نقصان آجائے۔یہ کنارے کے نمازی ہیں۔آیت نمبر ۱۶ - لَنْ تَنْصُرَهُ الله - یعنی رسول اللہ ﷺ کو جو آسمانی تعلقات اور ربانی امداد ہے اس کو آسمان پر جا کر قطع کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اس میں تو اس کے ہاتھ پیروں سے کچھ نہیں ہوسکتا پھر آسمان پر جانا تو محال ہی ہے۔اس نادان کو سمجھا دے کہ نصرت آسمانی کو کون روک سکے۔چھت میں رسا ڈال کر سولی لے لے خود کشی کر۔