اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 696
اقترب للناس ١٧ وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌةٌ ۶۹۶ الحج ٢٢ ہے اور وہی مُردوں کو چلاتا ہے اور وہی ہر چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔وَأَنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيْهَا وَاَنَّ الله - اور ضرور قیامت آنے والی ہے جس کے يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ آنے میں کچھ شک نہیں اور بے شک اللہ زندہ کرے گا ان کو جو عالم برزخ میں ہیں۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ تُجَادِلُ فِي اللهِ بِغَيْرِ 9۔اور بعض آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو جھگڑتا ہے اللہ کے مقدمہ میں بے علمی سے اور گمراہی سے علي ولا خلى ولا كتب منيرة بغیر روشن کتاب کے۔ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ ۱۰۔اپنا کندھا موڑ کرلے تا کہ بہکا دے اللہ کی راہ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِرى وَنُذِيقَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ ہے۔ایسے شخص کو دنیا میں بھی رسوائی ہے اور ہم اس کو انجام کارجلن کا عذاب چکھائیں گے۔عَذَابَ الْحَرِيقِ ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَكَ وَانَّ اللهَ لَيْسَ۔یہ ہے اس کا بدلہ ہے جو تیرے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور یہ کہ اللہ تو بندوں پر کچھے بھی قلم A کرتا نہیں۔بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِة وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ ۱۲۔اور آدمیوں میں سے بعض آدمی ایسا ہوتا لے یعنی تکبر کرتا ہوا لڑتا ہے۔ے عذاب کے وقت اس کو بتلا دیں گے۔آیت نمبر ۹۔بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى الخ۔نہ تو اسے الہام ہے، نہ عقلی دلیل ، نہ کتب آسمانی کی سند ہے۔محض تکبر وشیخی سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اکثر لوگ علم پڑھتے ہیں مگر خَشْيَةُ الله ان میں نہیں ہوتی اور نہ کتاب منیر۔واعظ اکثر مضحکات و مبکیات کو وعظ کی روح سمجھتے ہیں مگر قرآن مجید کا صحیح وعظ وسنت نبی کریم کا مؤثر بیان ، ایسا نہیں کرتے جیسا چاہئے۔آیت نمبرا ذلك۔یہ اس کا بدلہ جو آگے بھیج چکے ہیں۔اس میں تاریخ کا بھی رڈ ہے۔جس میں سزا پانے والے کو خبر نہیں ہوتی کہ کس قصور کی سزا ہے۔بظلامے۔یعنی انسان اپنی ہی بدکاریوں کا نتیجہ پاتا ہے کیونکہ خدا کچھ بھی ظلم نہیں کرتا۔آیت نمبر ۱۲ - وَمِنَ النَّاسِ۔اس رکوع میں منافقین سے تخاطب ہے مومن کو چاہئے کہ خوش حالی و تنگ حالی دونوں میں قضا و قدر کے ساتھ موافقت کرے نہ کہ میٹھا میٹھا ھپ ھپ ، کڑوا کڑوا تھو تھو۔