اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 695
اقترب للناس ١٧ ۶۹۵ الحج ٢٢ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ ) گمراہ کر دے گا اور عذاب دوزخ کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔يَأَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ ٦ - اے لوگو اگر تم کو شک ہے مرے بعد اٹھنے سے تو ہمیں نے تو تم کو پیدا کیا ہے مٹی سے پھر الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ نطفہ سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر پورے مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ بنے ہوئے گوشت کے تلے سے اور ادھورے مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ بنے ہوئے سے تا کہ تم پر خوب ظاہر کریں ہم اپنی قدرت اور ہم عورتوں کے پیٹ میں رکھتے ونُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا لشَاءُ إِلَى أَجَلٍ ہیں جس قدر یا جس کو چاہتے ہیں ایک مقرر مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ وقت تک پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں پھر نتیجہ یہ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفی ہے کہ تم اپنی بھر پور جوانی کو پہنچو اور بعض تم میں سے ایسے ہیں جن کی روح قبض کر لی جاتی ہے وَمِنْكُمْ مَّنْ تُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا اور کوئی ایسے ہیں جو علمی عمر کی طرف ڈالے يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ جاتے ہیں تا کہ کچھ نہ سمجھے سمجھنے کے بعد اور تُو زمین کو دیکھتا ہے سوکھی اور بے حس و حرکت پڑی هَا مِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتُ ہے پھر جب کہ ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيج پھر سبزہ زار ہو کر لہلہانے لگی اور ابھری اور اس نے اُگائے ہر ایک چیز کے عمدہ عمدہ جوڑے۔ذلِكَ بِأَنَّ اللهَ هُوَ الْحَقِّ وَأَنَّهُ يُحْيِ الْمَوْلى -- یہ سب باتیں اس واسطے ہیں کہ اللہ ہی سچا لے یعنی بہت بڑھے ہو جاتے ہیں۔آیت نمبر 4 - لِنُبَيِّنَ۔یعنی دنیا ہی میں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف ہم پیدا کرتے چلے گئے تو پھر مرے بعد جی اٹھنے پر وہ کیوں نہیں ایمان لاتا۔طفلاً - بچہ - طفل یعنی طفیلی بنا ہوا ہوتا ہے خود کچھ نہیں کر سکتا۔اَرْذَلِ الْعُمُرِ یعنی بہت بڑھے ہو جاتے ہیں۔اعضا ناتواں اور دماغ میں خلل اور دوسروں کا محتاج۔سترا بہتر ا جس میں بچپنے کی باتیں آگئی ہیں۔هَا مِدَةً - مر کے اٹھنے کی دوسری مثال اور رسول اللہ کی آمد کی طرف اشارہ ہے۔