اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 63
سيقول ٢ ۶۳ البقرة ٢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللهُ بِكُم شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ شر دنوں سے گنتی پوری کرلے (رمضان کے سوا اور دنوں میں روزے رکھ لے) اللہ تمہارے ساتھ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا آسانی کرنا چاہتا ہے تختی نہیں کرنا چاہتا نتیجہ یہ کہ تم هَدِيكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ پوری کر لو گنتی اور اللہ نے جو تمہاری رہنمائی فرمائی ہے اس کے شکریہ میں اس کی بڑائی اور تعظیم کرو، اور تا کہ تم اس کا احسان مانوشکر کرو۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۱۸۷۔اور (اے پیغمبر!) جب تم سے ہمارے بندے أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میرا حال پوچھیں تو (ان کو سمجھادو) میں بہت ہی پاس y ہوں (یعنی بڑا ہی مہربان ہوں)۔میں جواب دیتا فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ ہوں پکارنے والے کی پکار کا جب وہ مجھے پکارے لیکن دعا کرنے والوں کو چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور يَرْشُدُونَ مجھ پر دل سے فریفتہ تو ہوں تا کہ وہ سیدھے رستے لگ جائیں یعنی کامیاب ہو جائیں۔أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إلى ۱۸۸- حلال کر دیا گیا ہے تم کو روزوں کی راتوں نِسَا بِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسُ میں تمہاری بیبیوں سے صحبت کرنا وہ تمہارے لباس ے یعنی دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔آیت نمبر ۱۸۷- دَعْوَةَ الدَّاعِ الدَّاعِ خاص دعا کرنے والے (الانعام: ۴۲) یعنی جو مانگو وہی ملنا مقصود نہیں بلکہ اللہکو جو پسند ہو اور مشروط ہے فرماں برداری الہی اور تقویٰ پر مگر رحمانیت کا تقاضا فیض عام کا ہے۔آن لطف کر دیار که دشمن حذ ر گرفت چونکہ کاملین کے نزدیک فضل آخرت چاہئے اس لئے دشمن سے اس مصرع میں شیطانی مراد ہے۔آیت نمبر ۱۸۸ - وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ۔یعنی دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔عورتوں کے ساتھ رہنا چاہئے جیسا لباس جسم کے ساتھ رہتا ہے یعنی بغیر عورت کے نہ رہے اور ان کے حقوق کی رعایت رہے ایسا نہ ہو کہ لحاف کشمیر میں ہو اور موسم سرما پنجاب میں بسر کیا جائے۔