اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 690
اقترب للناس ١٧ ۶۹۰ الانبياء ۲۱ إنَّ هذه أمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا ۹۳۔بے شک یہ دین اسلام معلم خیر تم سب کا ایک ہی یکتا دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ تو تم میری ہی عبادت کرنا۔وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ كُلٌّ إِلَيْنَا ۹۴۔اور لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا سب کے سب ہماری طرف لوٹنے رجِعُونَ والے ہیں۔فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصَّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ -۹۵۔پھر جو شخص اچھے کام کرے اور وہ ایماندار بھی ہو تو ناقدری نہ کی جائے گی اس کی فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِ ۚ وَإِنَّا لَهُ كُتِبُوْنَ۔کوشش کی اور کچھ شک نہیں کہ ہمیں اس کے بڑے محفوظ رکھنے والے ہیں۔وَحَرُمٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنُهَا أَنَّهُمُ ٩٦ اور محال ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک ۹۶۔کر دیا کہ وہ پھر پلیٹیں۔لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَاجُوجُ ۹۷۔یہاں تک کہ جب کھول دیے جائیں ا یعنی آپس میں مذہبی اختلاف پیدا کر لیا۔آیت نمبر ۹۲ - تَقَطَّعُوا أَمْرَهُمُ۔اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا جیسے تنزیہ وتشبیہ کی بحث تقدیر و تدبیر کا جھگڑا اور ناسخ و منسوخ کے بیان اور عرش و فرش کے مسئلے اور وجود وشہود کے قصے وغیرہ وغیرہ، اصل حقیقت سے دور رہ کر مسلمانوں نے لکھے اور بیان کئے اور جامعیت کو جس کی طرف خدا بلاتا تھا اور کلام الہی اسکا مبین تھا چھوڑ دیا اور جامہ اتفاق کا پارہ پارہ کر لیا۔اصل میں سب کا دین اور طریقہ ایک ہی تھا جو نا اتفاقی اور نا سمجھی سے الگ الگ ہو کر عیسی به دین خود و موسیٰ بہ دین خود کا منحوس مقولہ بنا۔آیت نمبر ۹۵ - كتبُونَ۔ہمیں دین اسلام اور اعمالِ صالحہ کے بڑے محفوظ رکھنے والے ہیں۔آیت نمبر ۹۶ - أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔یعنی دوبارہ دنیا میں زندہ ہوں یا اسلام کی طرف آئیں یا قیامت میں ہمارے سامنے سرخرو ہوں یہ محال ہے۔آیت نمبر ۹۷ - يَأْجُوجُ وَمَأْجُوج۔دو آدمیوں کا نام ہے جو کہ انگریز وں اور روسیوں کے مورث اعلیٰ تھے چونکہ عرب میں قوموں کا نام ان کے مورث اعلیٰ سے لیا جاتا ہے اس لئے ان قوموں کا نام یا جوج ماجوج رکھا گیا اور اس کی وجہ تسمیہ ایک اور بھی ہے کہ آج آگ کو کہتے ہیں ان قوموں کے رنگ چہرہ کی بھڑک اور