اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 688 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 688

اقترب للناس ١٧ ۶۸۸ الانبياء ٢١ أَنْ لَنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمتِ نے یقین کر لیا کہ ہم اُس پر تنگی نہ کریں گے لے لے اور اس پر مصیبت نہ ڈالیں گے ہرگز جب وہ پھنس گیا مچھلی کے پیٹ میں۔(بقیہ حاشیہ ) اور لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور اس کو حکمت و علم سکھایا اور نوح کا اور اس کی دعا قبول کی۔پھر سلیمان اور داؤد کا ذکر فرمایا کہ انہیں بھی علم و حکمت دی۔پھر ایوب کا کہ اس کی دعا قبول کی اور اس کا دکھ دور کیا۔پھر اسمعیل و اور لیں اور ذوالکفل کا کہ بڑے صابر اور راست باز تھے۔پھر ذوالنون یعنی یونس علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔( یہاں ذوالنون منصوب واقعہ ہوا ہے ) اور واو عاطفہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کا عطف کسی پہلے فعل پر ہے جیسے کہ حضرت ابراہیم کے بعد سب انبیاء کے نام واو عاطفہ کے ساتھ منصوب آئے ہیں اور وہی فعل یہاں مقدر ہے جو حضرت ابراہیم کے متعلق أَتَيْنَا إِبْراهِيمَ رُشدہ بولا گیا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ترجمہ میں اس مقدر فعل کو ہم نے ظاہر کر دیا ہے۔ہاں انبیاء پر جو مصائب آتے ہیں اور ان کی دعا کے بعد دور ہوتے گئے ہیں یہ ان کے گناہ اور ذلت کی وجہ سے نہیں کیونکہ وہ معصوم ہوتے ہیں بلکہ ان کا صبر واستقلال دشمنوں کے مقابلہ میں اور خدا ہی پر بھروسہ کرنا اور اسی کی مدد چاہنا بلکہ ساری دنیا چھوڑ چکی ہو ثابت کرنا منظور ہوتا ہے اور ہر ایک نبی کی مصیبت کے ساتھ نَجَّيْنَهُ کا ارشاد اور آخر یہ فرمانا کہ كَذَلِكَ نُجِى الْمُؤْمِنِينَ (الانبياء : ٨٩) یہاں مُغَاضِبًا کا لفظ جو آ رہا ہے تو اس بات کا بیان نہیں کہ وہ غضب کس کے متعلق تھا خدا کے متعلق تو نہیں ہو سکتا کیونکہ رشد عطا ہو چکا تھا اور وہ مکرم بندے کہلاتے تھے اور خدا کے خلاف کوئی حرکت نہیں کر سکتے تھے ہاں وہ اپنی قوم اور بادشاہ کے متعلق غضب ناک تھے جیسا کہ ابن عباس کی ایک روایت میں ہے۔دوسرا لفظ أَنْ لَنْ نُّقْدِرَ عَلَيْهِ جس کے معنی ہیں اس پر ہم تنگی نہیں کریں گے جیسا لسان العرب جلد 4 صفحہ ۳۸۶ اور قرآن میں مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ القصص : ۸۳) آیا ہے۔پھر ظالمین کا لفظ ہے جو انسانی کمزوری اور نقص کا اظہار ہے اور خدا سے دعا کرتے ہیں اور حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مصائب دور کرنے کے لئے ایک مجرب دعا اور اسم اعظم ہے۔نہیں معلوم ہوتا کہ گناہ سے معافی مانگنے کے لئے استغفار ہے ؟ ہے کیونکہ آگے پیچھے کسی گناہ کا ذکر نہیں۔یہاں ظالم کے معنی (مصائب کے نیچے دبا ہوا) کے ہیں اور آگے وَنَجَّيْنَهُ مِنَ الْغَمِ ان معنی پر خوب روشنی ڈال رہا ہے۔اس مقام پر حضرت یونس کا نہ خدا کے قرب سے بھاگنے کا ذکر ہے اور نہ حکم توڑنے کا اور نہ کسی گناہ کا اقرار ہے۔اور سورۃ الصفت میں مچھلی کے نگلنے کا ذکر ہے پھر ان کے تسبیح و تقدیس کے سبب سے نجات۔اور یہ بات نہ ہوتی تو مچھلی کے پیٹ میں دائمی رہتے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ان بیانات سے یہ خیال کرنا کہ حضرت یونس خدا پر خفا ہو کر بھاگے تھے پر لے درجہ کی حماقت ہے ورنہ خدا خود اس بات کو بتا دیتا۔نبیوں سے مجرم نہیں ہوتا چنانچہ تمام قرآن شریف اس بات پر شاہد ہے کہ کسی نبی پر مجرم کا لفظ اطلاق نہیں پایا ہاں ذنب کا لفظ جو انسانی کمزوری پر بھی بولا جاتا ہے بعض نبیوں کے ساتھ آیا ہے اسی طرح استغفار جس کے معنے غلطیوں سے محفوظ رہنے کی دعا اور ترقیات کمال کی درخواست کے ہیں یہ نبیوں کے ساتھ بھی آتا ہے کا غیر۔