اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 687
اقترب للناس ١٧ ۶۸۷ الانبياء ۲۱ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَلِكَ وَكُنَّا لَهُمْ تابع کر دیئے تھے جو غو طے لگاتے تھے اور اس کے سوا اور بھی کام کرتے تھے اور ہمیں ان کے حفِظِينَ محافظ تھے ہے۔وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةَ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ ۸۴۔اور ایوب کا بیان کر جب اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ تو ہی ارحم الراحمین ہے۔فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍ ۸۵۔تو ہم نے اس کی دعا سن لی اور اس کا دکھ دور کر دیا اور اس کو اس کی گھر والی اور بچے وَأَتَيْنَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً دیئے اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ ( دیئے ) ہم مِنْ عِنْدِنَا وَذِكْرَى لِلْعَبِدِينَ نے ہماری خاص مہربانی سے اور عبادت کرنے والوں کے لئے یادگارا۔وَاسْمعِيْلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلُّ ۸۶۔اور اسماعیل اور ادریس اور ذا الکفل کا مِّنَ الصُّبِرِينَ بیان کر یہ سب کے سب صابروں میں سے وَادْخَلْتُهُمْ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُمْ مِنَ۔اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا ۸۷ الصّلِحِينَ کیونکہ وہ سنوار والوں میں سے تھے۔وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ ۸۸ اور ذُو النون ( مچھلی والے) کا بیان کرتے۔جب چل دیا وہ غضب کی حالت میں اور اس ے یعنی ہم نے سلیمان کا رعب ان پر ڈال رکھا ہے۔یعنی نیکیوں پر جمے رہنے والے بدیوں سے بچنے والے تھے۔ے کہ ہم نے اس کو رشد عطا فرمایا۔آیت نمبر ۸۶۔ذَا الْكِفْلِ۔عبد یا ہو اٹھارہ باب پہلی سلاطین کو دیکھو۔آیت نمبر ۸۸ - ذَا النُّونِ۔سورہ انبیاء سے ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام حکم الہی کی خلاف ورزی کا ارادہ کبھی نہیں کرتے۔ارشاد ہے عِبَادُ مُكْرَمُونَ الخ (الانبياء :(۲۷)۔ایسی فطرت والے نافرمانی کا ارادہ ہی نہیں کر سکتے۔اس مستحکم قاعدے کے بعد اللہ تعالیٰ نے چند انبیاء کا حال بطور مثال کے بیان فرمایا۔پہلے حضرت ابراہیم آیت ۵ رکوع ۴ اور ان کی اولاد میں حضرت اسحاق و یعقوب کا ذکر فرمایا اور سب کو صالحین کہا