اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 686
اقترب للناس ١٧ ۶۸۶ الانبياء ۲۱ وَعِلْمًا وَ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ ایک کو ہم نے عطا کیا فیصلہ اور علم اور ہم نے يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَعِلِينَ داؤد کے تابع کر دیئے تھے سادات قوم جو سبیح کیا کرتے تھے اور گھوڑوں کے سوار۔اور ہم ہی (سب) کام کرنے والے ہیں۔وَعَلَّمْنَهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ ۸۱۔اور ہم نے سکھا دیا تھا داؤد کو تمہارے ایک لِتُحْصِنَكُم مِّنْ بَأْسِكُمْ ۚ فَهَلْ أَنْتُمْ لباس کا بنانا تا کہ تمہیں محفوظ رکھے لڑائی کے ضرر سے تو کیا تم شاکر ہو۔شكِرُونَ وَلِسُلَيْمَنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً تَجْرِى ۸۲۔اور ہم نے سلیمان کے تابع کر دی زور کی بِأَمْرِةِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بُرَكْنَا فِيهَا ہوا جو ہمارے حکم سے چلتی زمین شام کی طرف جس میں ہم نے برکتیں رکھیں ہیں اور ہم کوسب ہی چیزوں کا علم ہے۔وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِمِينَ وَمِنَ الشَّيطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ ۸۳۔اور شریرہ سرکش لوگ ہم نے سلیمان کے (بقیہ حاشیہ) الجبال۔یہاں جبال سے مراد سردار یا پہاڑی لوگ یا سخت و سرکش لوگ بھی ہیں۔آیت نمبر ۱۸۱ - صَنْعَةَ لَبُوس۔ہمارے نبی کریم نے بھی زرہ بنائی جو اسلام و قرآن کریم ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس کو عملا پہن کر کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھتا۔آیت نمبر ۸۲ - بِآمرة - سلیمان کو ہم نے اقبال دیا تھا اور بڑے بڑے تختوں کے جہازوں کو موافق ہوا سے اس کا تابع کر دیا تھا جس سے وہ جہاز دور دراز مسافت کو تھوڑی مدت میں طے کر لیتے تھے اور وہ جہاز شہر صور کے بادشاہ نے بیت المقدس کی تعمیر کے لئے لکڑی پہنچانے کو بنوائے تھے جیسا کہ اول سلاطین باب ۵ میں ہے۔بُرَكْنَا فِيهَا۔سے مراد خلیج فارس جہاں موتی نکلتے ہیں۔(۲) بحیرہ روم (۳) بحر قلزم۔غرض تین طرف سے بحری سفر ہوتا تھا اور اشیاء چلی آرہی تھیں۔آیت نمبر ۸۳ - يَغُوصُونَ۔یہ قوم اب تک بھی نہر سویز وغیرہ دریاؤں میں پشیزوں کے لئے غوطے لگاتی ہے اور بڑی ذلیل قوم ہے یہ عمالقی اور فلسطینی اور افریقی وغیرہ قوم کے سرکش تنومند ہیں۔دیکھو سفر نامہ روم شبلی نعمانی۔