اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 685
اقترب للناس ١٧ ۶۸۵ الانبياء ۲۱ الْعَظِيمِ نے اس کو نجات دی اور اس کے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ سے۔وَنَصَرْنَهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِابْتِنَا ۷۸۔اور ہم نے نوح کی مدد کی اس قوم کے مقابلہ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْتُهُمُ پر جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتی تھی۔کچھ شک نہیں کہ أَجْمَعِينَ وہ لوگ بہت ہی بُرے تھے تو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا۔وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ إِذْ يَحْكُمَن فِي الْحَرْثِ ۷۹۔اور داؤد اور سلیمان کا حال یاد کرو جب وہ إِذْ نَفَشَتْ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ ۚ وَكُنَّا دونوں فیصلہ کرنے لگے ایک کھیتی کے مقدمہ میں جب رات کے وقت چر گئیں اس کھیت میں سے لوگوں کی بکریاں اور ان کا فیصلہ ہمارے حضور میں تھا۔لِحُكْمِهِمْ شُهِدِينَ ثُ فَفَهَّمْنْهَا سُلَيْمَن وَكُلًّا أَتَيْنَا حُكُما ۸۰۔پھر ہم نے سلیمان کو فیصلہ سمجھا دیا اور ہر آیت نمبر 9 - فِي الْحَرْثِ۔یہ قصہ ابن مسعود و شریح و مقاتل نے یوں نقل کیا ہے کہ داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں چرواہے کی غفلت سے ایک رات بکریاں انگور کے کھیت میں جاپڑیں اور کونپلیں کھا لیں صبح یہ مقدمہ حضرت داؤد کے یہاں پیش ہوا ، نقصان کا اندازہ لگایا تو بکریوں کی قیمت کے برابر تھا اس لئے بکریاں کھیت والے کو دلا دیں حضرت سلیمان نے یہ فیصلہ سنا تو کہا کہ باغ والے کا باغ حسب سابق جب تک درست نہ ہو بکریاں باغ والے کے پاس رہیں اور وہ ان کے دودھ وغیرہ سے نفع لیتا رہے اور بکریوں والا کھیت کی درستی کرے جب باغ درست ہو جائے تو بکریاں واپس کھیت والا دے دے اس پر فریقین راضی ہو گئے اور حضرت داؤد نے بھی اس فیصلہ کو بہت پسند فرمایا اور اجتہادی غلطی کو تسلیم کر لیا ( گو یہ قصہ مختلف فیہ ہے ) مگر اس لعنتی قصہ کے مقابلہ میں نہایت ہی صحیح ہے جس کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں سنوں گا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی نسبت کوئی سوعاد بی کے الفاظ کہتا ہے تو اس کو جھوٹے یا زانی کی سزا دوں گا۔آیت نمبر ۸۰ - فَفَهَمْنُهَا۔بعض وقت بڑوں کو نہیں چھوٹوں کو بات سمجھا دیتا ہے۔اللہ کی مصلحت وشان ہے جیسا کہ حدیث صحیح سے معلوم ہوتا ہے مشرکین اپنے بزرگوں کو واجب الاطاعت جانتے اور ان پر غلطی کا احتمال جائز قرار نہ دیتے اور اندھی تقلید جائز رکھتے۔خدا تعالیٰ نے ان کو یوں جواب دیا کہ داؤد نبی تھے با وجود نبی ہونے کے مقدمہ کے فیصلہ کی انہیں سمجھ نہ آئی اور سلیمان کو سمجھ آئی۔پس اسی طرح نبی کریم علیہ نے مشرکین اور بنی اسرائیل کے بزرگوں کی غلطیاں نکالیں۔پس اگر کوئی خدا کا مامور و اہم علماء متقدمین کی غلطیوں سے آگاہ کرے تو اس پر کیا اعتراض ہے؟