اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 683
اقترب للناس ١٧ ۶۸۳ الانبياء ۲۱ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا ۶۴۔کہا۔ہاں کرنے والے نے کی تو ہے۔ان فَسْتَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُوْنَ ) کا بڑا یہ ہے انہیں سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں تو۔فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنْتُمْ ۶۵ - تو لوگ اپنے جی میں سوچنے لگے یا آپس میں مشورہ کر کے بولے کہ تم ہی نا انصاف ہو۔الظَّلِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُ وَسِهِمْ ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ ۶۶۔پھر وہ اوندھے کئے گئے سروں کے بلے۔بے شک تجھے معلوم ہی ہے کہ یہ لوگ باتیں نہیں مَا هَؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ ) کرتے ہیں (یعنی بُت )۔قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا ۶۷۔ابراہیم نے کہا تو کیا تم اللہ کے سوا ایسوں لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ کی پوجا کرتے ہو جو تمہارا نہ بھلا کرے نہ بُرا۔أَنْ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۶۸۔تف ہے تم پر اور اُن پر جن کی تم پوجا کرتے أَفَلَا تَعْقِلُونَ ہو اللہ کے سوا۔تو کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ؟ قَالُوا حَرِقُوْهُ وَانْصُرُوا أَلِهَتَكُمْ إِنْ ۶۹۔انہوں نے آپس میں باتیں کیں کہ ابراہیم کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی ذرا مدد کرو اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو۔كُنْتُمْ فَعِلِينَ قُلْنَا يَنَارُ كُونِي بَرْدَا وَ سَلَمَا عَلَى ٠ ہے اور ہم نے آگ کو کہا اے آگ! تو ابْراهِيمَة یعنی شرمندہ و ذلیل ہو کر کہنے لگے۔غرض انہوں نے ابراہیم کو آگ میں ڈالا۔ٹھنڈک اور سلامتی بن جا ابراہیم پر۔آیت نمبر ۶۴ - بَلْ فَعَلَہ۔قرآن شریف میں اس فقرہ پر آیت یعنی ”قف صلے “ لکھا ہے اس لئے متن میں ترجمہ لکھا ہے۔( ہاں کرنے والے نے کیا تو ہے ) یہ بڑے محنت کھڑے ہیں ان سے پوچھو تو کہ کس نے کیا ہے اگر وہ بولتے ہوں۔اِنْ كَانُوا يَنْطِقُوْنَ۔کیا عجیب انداز سے اور کس خوبی سے بتوں کی ناچاری اور پجاریوں کی حماقتوں کا اظہار کیا ہے۔