اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 681
اقترب للناس ١٧ ۶۸۱ الانبياء ۲۱ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَهُمْ مِنَ ۵۰ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بے دیکھے تنہائی میں اور وہ انجام کار کی گھڑی کا بھی بڑا السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ خوف رکھتے ہیں۔وَهُذَا ذِكْرٌ مُّبْرَكَ اَنْزَلْنَهُ أَفَانْتُمْ لَهُ ۵۱۔اور یہ قرآن بھی بڑا یادگار ہے بابرکت ہے بچے جس کو ہم نے اتارا تو کیا تم اس کو نہیں مانتے۔مُنْكِرُونَ وَلَقَدْ أَتَيْنَا إِبْرُ هِيْمَ رُ شُدَهُ مِنْ قَبْلُ ۵۲۔اور ہم نے دی تھی ابرا ہیم کو وہ را ہنمائی فہم سلیم لے پہلے کی اور ہم اس کے بڑے جاننے والے ہیں۔وَكُنَّا بِهِ عَلِمِيْنَ ® إِذْ قَالَ لِأَبِيْهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ ۵۳ - جب اس نے اپنے چا اور اپنی قوم سے کہا الَّتِي اَنْتُمْ لَهَا عَكِفُونَ ) کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن پر تم جسے بیٹھے ہو۔قَالُوا وَجَدْنَا أَبَاءَنَا لَهَا عَبِدِينَ ۵۴۔انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے باپ دادوں کو انہیں کی پوجا کرتے ہوئے پایا۔ا قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ۵۵ - ابراہیم نے کہا بے شک تم اور تمہارے باپ دادا سب ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ضل المبنية ے بڑی دور کی بات ہے۔آیت نمبر ۵۲ - ابرھیم۔حضرت ابراہیم علیہ السلام شہر بابل یا اور تھا کے باشندے تھے۔پشتو میں اور تھا آگ کو کہتے ہیں۔یہاں بڑا آتش کدہ تھا۔بابل میں صابیوں کا مذہب رائج تھا جو آگ اور ستاروں کو پوجتے تھے۔جب مشرکین نے مشورہ کیا کہ ابراہیم کو آگ میں جلاؤ تو وہ اپنی تدبیر میں ناکام رہے اور فضل الہی ابراہیم کے شامل حال رہا اور وہ ملک شام کو پہنچے اور ان کے پیچھے لوط ایمان لائے۔یہیں حضرت اسحاق پیدا ہوئے اور ان سے یعقوب اور ان کی نسل سے ہزار ہا انبیاء اولیاء پیدا ہوئے۔یہ خدا ترسی کا نتیجہ ہے لوط علیہ السلام کو جھیل کے پاس رہنے کا حکم ہوا۔رُ شَدَه - انسان چے اخلاص وسعادت مندی سے کوئی نیکی کرے تو اس کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔یہاں دنیا میں بھی ضرور ملتا ہے ورنہ بچے اور جھوٹے مذہب میں فرق کچھ نہیں رہتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مذہب لائے اس کی بنا صرف زبانی وعدوں ہی پر نہیں بلکہ حقیقت واقعہ اور عروج بمرتبہ کمال دین اور دنیا میں حاصل ہوئے اور ہوتے ہیں۔ہاں مذہب حق ترک کر کے مسلمان اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں اور ذلیل ہورہے ہیں۔