اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 677 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 677

اقترب للناس ١٧ 122 الانبياء ٢١ ط فَذَلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِى ہوں اللہ کے سوا تو اس کو ہم سزا دیں گے جہنم کی۔ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں بے جا کام کرنے والوں کو۔الظَّلِمِينَ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ ۳۱۔کیا کافروں نے نہیں دیکھا آسمان اور وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا زمین دونوں بند پڑے ہوئے تھے تو ہم نے ان کوکھولا اور بنایا ہم نے ہر ایک چیز کو زندہ پانی مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْ حَيَّ اَفَلَا يُؤْمِنُونَ سے تو کیا یہ ایمان نہیں لاتے۔وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ ۳۲۔اور ہم نے پیدا کئے زمین میں پہاڑ ایسا نہ تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا ہو کہ زمین لوگوں کو لے کر جھک پڑے اور اس میں کھلے کھلے رستے تا کہ لوگ راہ پا جائیں۔لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ آیت نمبر ۳۱۔اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ۔کیا کافروں نے نہیں دیکھایا یقین نہیں کیا۔بار بار نظارہ نہیں کیا۔رَتْقًا۔دین و دنیا کے کارخانے ایک دوسرے کے ظل ہیں مومن کو چاہیے کہ دونوں کو سمجھ کر کام کرے۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔خشکی کے بعد بارش آتی ہے اسی طرح الہامات کی بارش بھی ضرورت حقہ کے وقت ہوتی ہے ورنہ آسمان و زمین بند پڑے رہتے ہیں۔فَفَتَقْنَهُمَا۔آسمان اور زمین کا کھلنا ، بارش اور جھاڑوں کا ہونا اور بند ہونا۔اس کے برعکس اب رسول اللہ سے طفیل سے کھولے گئے ہیں۔دیکھنا کیسے ذی حیات اور اشجار نو مثمرہ پیدا ہوں گے۔مِنَ الْمَاءِ - کیا حیوانات کیا نباتات سب پانی ہی سے پیدا ہوتے ہیں اور پانی ہی کے ذریعہ سے زندہ رہتے ہیں۔أَفَلَا يُؤْمِنُونَ۔اس وقت ایک بارش ہوئی ہے طبائع حسب فطرت پھل لائیں گی۔باران که در لطافت طبعش خلاف نیست از باغ لاله روید و از شوره بوم خس آیت نمبر ۳۲ - اَنْ تَمِيدَ بِهِمْ۔پہاڑوں کو لے کر چکر کھاتی ہے از ابن عباس۔اور چکی کی طرح قطب شمالی یا جنوبی میں یا چرخ کی طرح ( خط استوا )۔فِجَاجًا سُبُلًا - جب دنیا کے رستے خدا نے بتائے تو کیا ابد الآبا د جگہ کا راستہ نہیں بتایا ؟ بے شک بتایا۔سالک راہ مستعد ہونا چاہئے۔