اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 675
اقترب للناس ١٧ ۶۷۵ الانبياء ۲۱ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا ۱۷۔اور ہم نے نہیں پیدا کیا آسمان اور زمین کو اور جو ان دونوں کے بیچ میں ہے بے حقیقت کام کرتے ہوئے۔لَوْ أَرَدْنَا اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنُهُ ۱۸۔اگر ہم چاہتے کہ کچھ کھلونا بنا ئیں تو اس کو مِن لَّدُنَّا إِنْ كُنَّا فَعِلِينَ بناتے اپنے پاس سے جب ہم کو بنانا ہوتا۔بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ ۱۹۔بلکہ ہم حق کو باطل پر غلبہ دیتے ہیں وہ اس کا فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا بھیجا کچل ڈالتا ہے تو وہ فورا بھاگ جاتا ہے اور تم پر افسوس ہے ان باتوں سے جو تم بیان کرتے ہو۔تَصِفُونَ وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ ۲۰۔اور اُسی کا ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ ہے اور جو اس کے نزدیک ہے یہ سب اس کی وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں۔يُسَبِّحُونَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ ٢١ - رات دن اس کی یاد میں لگے رہتے ہیں اور وہ کا ہلی نہیں کرتے۔امِ اتَّخَذُوا أَلِهَةً مِّنَ الْأَرْضِ هُمُ ۲۲۔کیا انہوں نے ایسے جھوٹے معبود بنا رکھے ہیں زمین سے جو وہ اٹھا کھڑا کریں گے لیے۔يُنْشِرُونَ ردا فَسُحْنَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا ۲۳- اگر آسمان اور زمین میں معبود ہوتے اللہ کے سوائے تو وہ دونوں تباہ ہو جاتے (یعنی شرک سے کام لیں تو سب اسباب خراب ہو جائیں) پاک ذات ہے اللہ کی جو عرش کا رب ہے اور اس سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کا دوسرے کو شریک بتاتے ہیں۔يَصِفُونَ لے مُردوں کو سوائے اللہ کے کوئی زندہ نہیں کرسکتا۔آیت نمبر ۲۱ - لَا يَفْتُرُونَ۔تھکتے نہیں۔کسی عابد سے پوچھا کہ تم عبادت سے تھکتے نہیں تو اس نے کیا خوب جواب دیا کہ سانس لینے، بھپک مارنے سے تھکتے ہو۔مطلب یہ ہے کہ سانس لینے سے انسان کو راحت حاصل ہوتی ہے ایسا ہی عابد انسان کے جسم میں جب عبادت رچ جاتی ہے تو پھر عبادت سے اس کو راحت حاصل ہوتی ہے اور وہ تھکتا نہیں بلکہ لذت اٹھاتا ہے۔