اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 672
اقترب للناس ١٧ ۶۷۲ الانبياء ۲۱ سُوْرَةُ الانْبِيَاءِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَةٌ وَّ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ايَةً وَّ سَبْعَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الجزء ١٧ ا۔ہم سورۃ الانبیا ء کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس کے نام سے جو سب خوبیوں کا مالک تمام عیبوں سے پاک ہے بے خدمت بھی سب کچھ دیتا ہے خدمت کا بھی خوب صلہ عنایت فرماتا ہے۔اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي ٢۔انسانوں کا حساب قریب ہو گیا ہے مگر لوگ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ ® غفلت میں پڑے ہوئے منہ پھیر رہے ہیں۔مَا يَأْتِيهِم مِّنْ ذِكْرِ مِنْ رَّبِّهِمْ تُحْدَثٍ ٣۔اُن کے پاس نہیں آئی کوئی نصیحت اُن کے رب کی طرف سے نئی مگر وہ اس کو سن لیتے ہیں إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ) حال یہ ہے کہ وہ بے حقیقت کام ہی کرتے ہیں۔آیت نمبر ۲۔حِسَابُهُمْ - حسب خلاصہ ذیل مضمون اس سورہ شریف میں آئے ہیں۔(۱) انبیاء پر کیا اعتراض ہوتے ہیں اور ان سے موافقت و مخالفت کے نتائج کیا ہوتے ہیں ان کے آنے کا وقت اور ضرورت۔(۲) لوگ جب عام غفلت میں ہوتے ہیں تو انبیاء آتے ہیں یعنی جب حمیت مذہبی کم ہو جاتی ہے ہزار برس میں ایسا ضرور ہوتا ہے۔سو برس میں بھی۔پیرا یہ جدید ہوتا ہے اصل شریعت باقی رہتی ہے۔(۳) لَا هِيَةٌ قُلُوبُهُمُ کھلاڑی دل۔آج کل بھی ایسے لوگ بہت ہیں۔(۴) وہ نکتہ چینیاں جو انبیاء پر ہوتی ہیں تو یہ نرم پیرا یہ ہے کہ تمہارے جیسا ایک آدمی ہے کہیں تو اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ بھی کہا گیا ہے۔(۵) دلر بابا تیں کرتا ہے یا جادوگر ہے۔(۶) رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ یعنی تم پر فرد جرم لگ چکا ہے سزا ملے گی۔(۷) اخلاق انبیاء اعلیٰ دیکھ کر پیشگوئیوں پر اعتراض کر دیتے ہیں اور بَشَرًا مِّثْلُكُم نہیں کہہ سکتے اس سے بڑھ کر بَلِ افْتَرَاهُ کہ دیتے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر شاعر کہہ دیتے ہیں کلام مؤثر بھی دیکھتے ہیں۔مُعْرِضُونَ۔فطرتی بات تو یہ تھی کہ حساب کا وقت قریب ہو تو لوگ چونک جاتے کہ رسول اللہ بھیجے گئے ہیں وہ اچھوں کی پڑتال کر رہے ہیں۔امتحان لے رہے ہیں۔ہر ایک جماعت کا محاسبہ ہو رہا ہے۔بڑی بڑی سلطنتیں موجود ہیں۔عرب کا ملک آزاد ہے اور تعلیم سے مہذب بنایا جا رہا ہے۔قیصر و کسریٰ سے کہا جا رہا ہے کہ اگر حساب میں غلطی نکلی تو لَا قَيْصَرَ وَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ یعنی ہر ایک کو اس کے اعمال کا نتیجہ ملنے والا ہے۔افسوس کہ اس پر بھی وہ اعراض کر رہے ہیں اور خواب غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں۔