اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 668
red b ۶۶۸ قال الم ١٦ نَجِدُ لَهُ عَزْمان بھول گیا تھا اور ہم نے اس میں قصد نہ پایا لے۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ۔اور وہ یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو کہا فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبي۔آدم کی فرمانبرداری کرو تو سب نے حکم مانا مگر ابلیس نے انکار کر دیا۔فَقُلْنَا يَادَمُ اِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لكَ ۱۱۸ تو ہم نے کہہ دیا اے آدم! یہی تیرا دشمن وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِ جَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ ہے اور تیری بیوی کا اور رفیق کا تو کہیں تم کو نکلوا نہ دے جنت سے تو تم نا کام ہو جاؤ گے۔فَتَشْقى ן اِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعرى ١١٩ - جنت میں تجھے یہ کمال حاصل ہے کہ نہ تو بھوکا رہے اس میں اور نہ ننگا۔وَأَنَّكَ لَا تَطْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضْحى ۱۲۰۔اور نہ یہ کہ پیاسا رہے اس میں اور نہ دھوپ کھائے۔فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَنُ قَالَ يَا دَمُ هَلْ ۱۲۱۔پھر وسوسہ کیا اس کی طرف شیطان نے اور ادُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ بولا اے آدم ! کیا میں آپ کو بتاؤں ہمیشہ رہنے کا جھاڑ اور ایسی سلطنت جو کبھی پرانی نہ ہو۔لا يبلي ے حضرت آدم سے قصد گناہ نہیں ہوا وہ بھول گئے تھے۔(بقیه حاشیه ) فَلَا يُخْرِ جَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ الخ (طه : ۱۸)۔اس سے عصمت انبیاء پر حملہ نہیں ہوتا کیونکہ در حقیقت گناہ کا تعلق نیت اور میلان قلبی سے تعلق رکھتا ہے۔چونکہ مذاہب کا اصل مقصد انسان کی بہیمیت پر ملکیت کو غالب کرنا ہے اور نفس امارہ کو مطمئنہ بنانا۔اس لئے جیسا کہ آدم کو یہ کہا گیا کہ اس درخت کے کھانے سے تم ملک بن جاؤ گے تو اس نے ملکیت جو قرب الہی کا موجب ہے از روئے شوق اور محبت کے پسند کر لیا اور جھوٹے کا قول جو قسم کھا کر ناصح مشفق بنا تھا عا شقانہ رنگ میں قبول کر لیا۔چونکہ بات اپنے مطلب کی تھی اس لئے رقیب ناصح کی بات مان لی اور دھو کہ کھا گئے۔یہی باعث ہے کہ ان کو ایک رنگ میں کہا گیا کہ تم کو تو روکا گیا تھا لیکن ان کا تقرب آگے سے بھی بڑھ گیا جو ثُمَّ اجْتَبہ سے ظاہر ہے۔اگر عصیان اور نہی کا تو ڑ نا نافرمانی کے رنگ میں ہوتا تو اِجْتَلهُ ربه کا خطاب نہیں توڑنے کے بعد نہ ہوتا۔خلاصہ یہ کہ خود فرما دیا وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى أَدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا (طه:١٢) -