اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 667
قال الم ١٦ red b يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا۔وہ خوب جانتا ہے جو سامنے ہونے والا ہے اور جو پیچھے ہو چکا ہے اور لوگوں کا علم تو اس کو يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا حاوی نہیں ہوسکتا۔وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيَّ الْقَيُّوْمِ وَقَدْ ۱۱۲۔اور بڑے بڑے وجیہ عظیم الشان لوگ حَيُّ الْقَيُّوم کے سامنے جھک جائیں گے اور خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا کچھ شک نہیں کہ جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد ہی رہا۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ۱۱۳۔اور جو بھلے کام کرے اور وہ ایماندار بھی ہو تو اسے نہ تو ظلم کا ڈر ہے نہ نقصان کا۔فَلا يَخُفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمان وَكَذَلِكَ اَنْزَلْنَهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا ۱۱۴۔اور اسی طرح ہم نے اس ( یعنی قرآن ) کو فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ اتارا ہے ہر وقت پڑھنے کی چیز عربی زبان میں اور طرح طرح سے اس میں بیان کئے ہیں ڈر يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا تا کہ لوگ تقویٰ اختیار کریں یا ان کے لئے موجب نصیحت ہو جائے۔فَتَعلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلُ ۱۱۵۔بہت بڑا درجہ عالی شان اللہ بچے بادشاہ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ کا ہے اور تو جلدی نہ کر قرآن میں جب تک کہ اس کی وحی تمام نہ ہو چکے تیری طرف اور کہا کر ماش سے وہ وَحْيُهُ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا اے میرے رب ! مجھے علم اور زیادہ دے لے۔وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ ۱۱۶۔اور ہم نے اقرار لیا آدم سے پہلے سے لے انبیا کو علم کی ترقی کا کتنا خیال ہے۔آیت نمبر ۱۱۶۔عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ۔یادر ہے کہ آدم کے بھولنے سے مراد یہ نہیں کہ ان کو وَلَا تَقْرَبَا هُذِهِ الشَّجَرَةَ (البقرة : (۲۱) کا حکم بھول گیا تھا کیونکہ شیطان نے وسوسہ کے وقت ان کو نہی یاد دلائی ہے اور اس کے وجوہات بیان کئے جیسا کہ سورہ اعراف رکوع (۲) سے ظاہر ہے فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مِن مَا نَهُكُمَا رَبُّكُمَا بیان کیا ہے تو نسیان سے مراد یہ ہے کہ وہ ابلیس کو دشمن سمجھنا بھول گئے تھے اور اس کو دوست ناصح سمجھ بیٹھے تھے کیونکہ ان کو بتایا گیا تھا یا دَمُ اِنَّ هَذَا عَدُوٌّ لَكَ وَلِزَوْجِكَ