اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 648
قال الم ١٦ مَنْ كَانَ تَقِيًّا ۶۴۸ مریم ۱۹ سے اس شخص کو وارث بنا ئیں گے جو بڑا متقی ہوگا۔وَ مَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبَّكَ لَهُ مَا ۶۵ - ہم (فرشتے) اترتے نہیں مگر تیرے ربّ بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلَقْنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ کے حکم سے۔اسی کو معلوم ہے جو آگے ہونے والا ہے اور جو پیچھے ہو چکا اور جواب ہے وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيَّان اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٢٦ - وہ ربّ ہے آسمان اور زمین کا اور جوان۔فَاعْبُدُهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ دونوں کے درمیان ہے تو اسی کی عبادت کر اور نیکی پر جما رہو اور بدی سے بچتے رہو اس کی لَهُ سَمِيًّان فرمانبرداری کے لئے۔بھلا تیری عقل و سمجھ میں اللہ کے جیسا کوئی اور بھی ہے۔وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ إِذَا مَا مِتُ لَسَوْفَ ۶۷۔اور کافر (منکر قیامت) آدمی کہتا ہے جب میں مر جاؤں گا تو کیا آگے زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔أُخْرَجُ حَيَّا اَوَلَا يَذْكُرُ الْإِنْسَانُ إِنَّا خَلَقْنَهُ مِنْ قَبْلُ ۶۸۔کیا یہ آدمی یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اسے پہلے پیدا کیا ہے جب وہ کچھ بھی نہ تھا۔وَلَمْ يَكُ شَيْئًا فَوَرَبَّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيطِيْنَ ثُمَّ ۲۹ - پس تیرے رب کی قسم ہے ہم ضرور جمع لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّان کریں گے ان کو اور شیاطین کو پھر ان کو لا کر حاضر کریں گے جہنم کے پاس گھٹنوں پر گرے ہوئے۔ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْحَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ ۷۰۔پھر الگ کریں گے ہر ایک ٹکڑی میں سے اس شخص کو جو رحمان پر بڑا اکٹر باز تھا۔عَلَى الرَّحْمَنِ عِيان آیت نمبر ۶۶۔سَمِيًّا۔لفظی ترجمہ تو یوں تھا کیا تو اس کے لئے ہمنام جانتا ہے مگر ہم نے مطلب خیز تر جمہ کیا ہے یعنی تیری عقل و سمجھ میں اللہ کے جیسا کوئی اور بھی ہے۔آیت نمبر ۷۰۔اَلرَّحْمٰنُ۔اس سورہ شریف میں رحمان کا لفظ کثرت سے آتا ہے وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ اور آریہ اور عام شیعہ اس اسم مبارک کے عملی منکر ہیں اور وہ رحم بلا مبادلہ کے قائل نہیں۔