اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 641
قال الم ١٦ ۶۴۱ مریم ۱۹ قَالَتْ أَن يَكُونُ لِي غُلَمُ وَلَمْ يَمْسَسْنِي ۲۱۔وہ بولی مجھے کب یا کیسا ہو گا لڑکا حالانکہ مجھے چھوا بھی نہیں کسی آدمی نے اور نہ میں کبھی بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيَّان بد کار تھی۔* قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَى هَيْنُ ۲۲۔فرشتہ نے کہا۔ہاں اللہ کی مرضی یوں ہی وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِنَّا ہے۔تیرے رب نے فرمایا ہے یہ بات مجھ پر آسان ہے۔ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيَّان نشان بنانا چاہتے ہیں اور خاص ہمارے پاس کی رحمت اور یہ کام تو ہو چکا ہے۔فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيَّان ۲۳۔پس وہ حاملہ ہوئی تو اسے لے کر الگ ہو بیٹھی دور جگہ میں۔فَا جَاءَهَا الْمُخَاضُ إِلى جِذْعِ النَّخْلَةِ ۲۴۔پھر اس کو دردِ زہ لے آیا ایک کھجور کے تینہ کی طرف اور وہ بولی کاش اس سے پہلے (یعنی درد سے ) مجھے غشی آجاتی (یا میں مرگئی ہوتی ) قَالَتْ يُلَيْتَنِي مِتُ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسيَّا مَنْسِيَّان اور میں بھولی بسری ہو گئی ہوتی۔فَنَادُهَا مِنْ تَحْتِهَا الَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ ۲۵ پھر اس کو پکارا کسی پکارنے والے نے اس کے رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيَّا نیچے سے کہ ملین نہ ہو بے شک تیرے رب نے ایک چشمہ بنا دیا ہے تیرے قدم کے پاس۔آیت نمبر ۲۲ - اَمْرًا مَّقْضِيًّا۔یہ دونوں قصے نبی کریم علی اللہ کے اطمینان کے لئے اور اس امر کے اظہار کے لئے کہ یہ عرب کا ملک اور مکہ کا شہر اگر چہ روحانی فرزند پیدا کرانے میں مثل زکریا اور اس کی بی بی کے ہے۔کمزوری میں یا اس لحاظ سے کہ اس ملک میں پہلے کوئی نذیر نہیں آیا مثل مریم کے بے زوج ہے تو بھی اس سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔مکہ کو گزشتہ کتابوں میں بانجھ کے لفظ سے ذکر کیا گیا ہے جیسے الیسع کی کتاب میں موجود ہے کہ اے بانجھ تو بھی بچہ جنے گی۔آیت نمبر ۲۳ - مَكَانًا قَصِيًّا۔تفسیروں میں بھی لکھا ہے کہ وہ مصر تھا۔ابن جریر نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔آیت نمبر ۲۴ - لَيْتَنِی مِت۔یہ دعا نہیں ہے بلکہ تمنا ناممکن ہے۔آیت نمبر ۲۵۔سَرِيًّا - سری سردار کو بھی کہتے ہیں یعنی تیرے قدموں کے پاس سردار ہے اس سے مراد عیسی علیہ السلام ہیں۔