اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 57
سيقول ٢ ۵۷ البقرة ٢ محض بے عقل ہوں اور راہ راست پر بھی نہ چلتے اباؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ہوں (جب بھی کیا وہ انہیں کی چال پر چلیں گے)۔وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُ وا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ ۱۷۲۔اور اُن لوگوں کی مثال جنہوں نے حق کو بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءَ وَنِدَاء صَم چھپایا اُس کے جیسی ہے جو اُس کو چلا چلا کر پکار رہا ہے جو نہیں قبول کرتا ہے مگر محض بلانا اور پکارنا۔بہرے ہیں ( حق سننے سے ) گونگے ہیں بكُمُ عُيُّ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ( حق بولنے سے) اندھے ہیں (حق دیکھنے سے ) تو وہ کچھ بھی عقل نہیں رکھتے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ ۱۷۳۔اے ایمان دارو! ہماری دی ہوئی پاکیزہ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ چیزیں کھاؤ اور اللہ ہی کا شکر کرو جب تم اسی کی إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ عبادت کرتے ہو۔آیت نمبر ۱۷۲ - ينعق۔اس سے پہلی آیت میں کفار کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کی طرف بلایا گیا ہے جس کے بالمقابل انہوں نے اپنی آبائی تقلید کو ترجیح دی ہے اس حال میں اگر کفار کو کچھ سمجھ بوجھ ہوتی تو وہ اللہ کے مقابلہ میں انسان بلکہ مردہ انسان کو مقدم نہ کرتے پس وہ مومن جو ان کا فروں کو ہدایت کی طرف بلا رہا ہے اور ان کا فروں کی جو اس کی بات کو نہیں سمجھتے ایسی تمثیل ہے کہ یہ کا فرمثل چارپایوں کے آواز تو سنتے ہیں پر سمجھتے نہیں اور ان کو پکارنے والا مومن گویا چارپایوں کو کچھ کہ رہا ہے۔اس تمثیل سے کفار کی مذمت اور ان کی بے عقلی کا اظہار مقصود ہے۔امام سیبویہ نے اپنی الکتاب میں اس آیت کی یوں تفسیر کی ہے۔مَثَلُ الَّذِينَ آمَنُوْا وَ مَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُ وا گویا معطوف علیہ محذوف ہے جیسے رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمد میں ہے۔آیت نمبر ۱۷۳ - اِيَّاهُ تَعْبُدُونَ۔خلاصہ اس رکوع کا یہ ہوا کہ حلال طیب کھاؤ جو اپنا ہو، حلال ہو ، مضر نہ ہو، شکر کرو۔سوء و فحشاء تقول سے بچو یعنی باپ و دادا کی پیروی کا بہانہ اور جو ہم بدی کرتے ہیں وہ خدا کی بتائی ہوئی اور کرائی ہے نہ کہو یعنی تقلید بیجا نہ ہو۔ایسے کبھی نہ بنو کہ گوش حق شنوا اور چشم حق بین گم کر لو۔حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمية۔اس رکوع کی پہلی آیت میں حلال طیب کھانے کا حکم تھا اس کے بالمقابل فطرةً سوال پیدا ہوتا تھا کہ حرام کیا ہیں تو یہاں بطور کلیہ بیان فرمایا گیا کہ وہ سب چیزیں جو قوی فطرتی یا دین یا اخلاق