اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 631
قال الم ١٦ ۶۳۱ الكهف ١٨ وَأَمَّا الْخُلَمُ فَكَانَ اَبَوهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينا ۸۱۔اور وہ جوان لے کہ اس کے ماں باپ ایماندار تھے تو ہم ڈرے کہ ان کو عاجز کرے گا سرکشی أنْ تُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا اور کفر کر کے۔فَأَرَدْنَا أَنْ تُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ ۸۲ تو ہم نے چاہا کہ ان کو عوض مرحمت فرمائے۔ان کا رب اس جوان کی بجائے بہتر پاکیزگی زَكُوةً وَ أَقْرَبَ رُحْمًا میں اور قریب تر مہربانی میں۔۔وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِعُلَمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي ۸۳۔اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر کے دو یتیم بچوں کی الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كُنْزُ لَّهُمَا وَكَانَ تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ گڑا ہوا تھا اور ان دونوں کا باپ ایک نیک مرد تھا تے تو تیرے پروردگار ابُوهُمَا صَالِحًا فَاَرَادَ رَبُّكَ أَنْ تَبْلُغَار نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً خا نہ نکال لیں یہ تیرے رب کی مہربانی سے ہے مِنْ رَّبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِى ذَلِكَ اور میں نے یہ اپنی رائے سے نہیں کیا۔یہ اصل تأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرَان نچ حال ہے جس پر تو صبر نہ کر سکا۔وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ ۸۴ اور اے محمد ! تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کا حال تو کہہ دے میں قریب ہی پڑھ سناؤں گا سَاتُلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًات اس کا حال۔إِنَّا مَكَالَهُ فِي الْأَرْضِ وَأَتَيْنَهُ مِنْ ۸۵۔ہم نے اس کو قدرت دی تھی ملک میں اور ا جس کا حال یہ ہے۔سے یعنی نا خلف اولاد کی جگہ سعید و فرمان بردار بچہ دے دے گا جو اس کا نعم البدل ہوگا اور یہ قتل کا حکم مثل جہاد کے تھا۔سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالحین کی اولا دضائع نہیں ہوتی۔بلکہ اللہ کے حکم سے کیا۔۵ ان واقعات کا۔اللہ فرماتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ۔آیت نمبر ۸۴ - ذِی الْقَرْنَيْنِ - کتاب دانیال باب ۸ آیت ۴ دو سینگوں والا ایک مینڈھا دانیال پیغمبر نے خواب میں دیکھا جس سے مراد مید و فارس کا بادشاہ خورس و کیقباد ہے جو بلاد شام و شمالی عرب کو فتح کر چکا تو بحر اسود کا کالا دلدل اس کے آگے آگیا اور دوسرا کنارہ نظر نہ آنے کے سبب سے سورج سمندر میں ڈوبتا ہوا نظر آیا۔اس قصہ میں یہود اور مجوس دونوں کو ملزم قرار دیا ہے۔