اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 630 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 630

قال الم ١٦ ۶۳۰ الكهف ١٨ فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ گاؤں والوں سے کھانا مانگا تو گاؤں والوں نے فَاقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اُن کی مہمانی سے انکار کر دیا پھر اس گاؤں میں ایک دیوار پائی جو گرا ہی چاہتی تھی تو اس کو اجران سیدھا کر دیا۔موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۷۹۔خضر نے کہا یہ میرے اور تیرے درمیان سَانَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَالَمْ تَسْتَطعْ عَلَيْهِ جدائی ہے میں تم کو قریب ہی بتائے دیتا ہوں اُن باتوں کی حقیقت جن پر تم صبر نہ کر سکے۔صَبْرًا أَمَّا السَّفِيْئَةُ فَكَانَتْ لِمَسْكِينَ ۸۰ کشتی جو تھی وہ چند بے کسوں کی تھی کام کرتے يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَارَدْتُ أَنْ أَعِيْبَهَا تھے دریا میں تو میں نے چاہا اس کو عیب دار کر دوں کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑتا تھا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَّلِكُ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْيَّان۔ہر ایک کشتی کو زبر دستی۔آیت نمبر ۷۸۔جِدَارًا۔اس دیوار کے لفظ میں ایک پیشگوئی ہے اور اس قصہ میں معراج موسوی کا ذکر ہے۔مشہور قصہ تو معلوم ومسلّم ہی ہے اور جن تین باتوں پر حضرت موسیٰ نے اعتراض کیا ہے وہ خود ان کے گھر میں اور ان پر گزری ہوئی ہیں۔پانی میں نہیں ڈوبے۔بلا اجرت پانی شعیب کی بیٹیوں کو بھر دیا۔قتل قبطی بھی جہاد موسوی میں مشہور ہے۔یہ بیان موسیٰ علیہ السلام کے معراج کا ہے۔عبدصالح خضر راہ تھے اور آئندہ کے واقعات کا اظہار تھا۔اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ بادشاہ سے لڑ کر دریا عبور کرنا پڑے گا، قتل النفس بھی بہت ہوگا یعنی جہاد سیفی ، دیوار ملت ابراہیمی گرنے والی تھی اس کو اور عَبْدٌ مِّنْ عِبَادِنَا یعنی سردار انبیاء ہمارے حضور نے درست کر دی اور ملت ابراہیم کے خزانے محفوظ رہے۔ایک پرانی کتاب یہودیوں کے پاس ہے اُس کا نام معراج موسوی ہے اس میں موسیٰ کے ہمراہی کا نام خضر ہی لکھا ہے (ملاحظہ ہو انسائیکلو پیڈیا بلی کا حروف موسیٰ واپا کے پس )۔آیت نمبر ۷۹۔فراقی۔تین بار سے زیادہ بے اعتدالی دیکھ کر قطع تعلق معلوم ہوتا ہے۔آیت نمبر ۸۰ - آعِيْبَهَا۔آیات مذکورہ بالا میں جہاں صیغہ واحد متکلم کے ساتھ بیان ہے وہاں عیب سے منسوب ہے اور جہاں صواب بھی ملا ہوا ہے وہاں جمع کے ساتھ ہے جیسے اردنا اور جہاں صرف خوبی ہے وہاں اللہ سے منسوب ہے جیسے اَرَادَ بِكَ۔ادب طریق انبیاء ہے۔