اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 628
سبحن الذي ١٥ ۶۲۸ الكهف ١٨ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوْتَ وَمَا انْسَنِيْهُ إِلَّا نے آرام پایا پتھر کے پاس تو (جناب) میں مچھلی بھول گیا اور یہ شیطان ہی نے مجھے بھلا دیا الشَّيْطَنُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيْلَهُ ہوگا کہ میں اس کا تذکرہ کروں آپ سے اور مچھلی نے اپنا راستہ لیا دریا میں کیسا تعجب ہے۔فِي الْبَحْرِ عَجَبًا قَالَ ذلِكَ مَا كُنَّا نَبِغِ فَارْتَدَا عَلَى ۶۵۔موسیٰ نے کہا وہ یہی (مقام) تو ہے جو ہم چاہتے تھے پھر دونوں الٹے پھرے اپنے قدموں أَثَارِهِمَا قَصَصَّان کے نشانوں پر کھوج لگاتے ہوئے۔فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَهُ رَحْمَةً ٢٦۔تو انہوں نے پایا ہمارے بندوں میں سے مِنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنَهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًان ایک بندے کو جس کو ہم نے دی تھی خاص اپنے پاس سے رحمت اور سکھایا تھا ہمارے پاس کا علم۔قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ ۷۷ - موسیٰ نے ان سے کہا کیا میں تمہاری پیروی تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا کروں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو جو تم کو سکھائی گئی ہے لیاقت کی بات۔قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ۶۸۔اس نے یعنی ( عبد صالح ) نے کہا تم میرے ساتھ ہرگز نہ صبر کر سکو گے۔وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِظ به ۶۹۔اور کیسا صبر کر سکتے ہو اس چیز پر جس کا سمجھنا تمہارے قابو میں نہیں۔خبرات قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ صَابِرًا ۷۰۔موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھ کو ضرور صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کے وَّلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا خلاف نہ کروں گا۔(بقیه حاشیه) أنسنیة۔ایک صرفی نکتہ ہے کہ ضمیر غائب کے ماقبل زیریائی ہوتوہ پر زیر ہوتی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو پیشں۔آیت نمبر ۶۶۔عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا۔قرآن شریف میں حضرت خضر کا کہیں نام نہیں چونکہ اس عبد صالح کا خضر مشہور نام ہے اس لئے آگے ترجمہ میں یہی لکھا گیا۔عِلْمًا - جو علم بذریعہ وحی اور الہام کے معلوم ہوتا ہے وہ علم لدنی کہلاتا ہے۔جو تجارب عقل سوچ بچار سے معلوم ہو وہ علم ظاہری یا عقلی اجتہادی کہلاتے ہیں۔