اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 627
سبحن الذي ١٥ ۶۲۷ الكهف ١٨ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا ۶۲۔پھر وہ جب دونوں دریاؤں کے پاسنگم فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا شی اجتماع یا ملنے کی جگہ پر پہنچے بھول گئے اپنی مچھلی تو اس نے اپنا راستہ لیا دریا میں سرنگ کی طرح۔فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتْهُ اتِنَا غَدَاءَنَا ۶۳۔پھر جب آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا ہمارا ناشتہ لاؤ بے شک ہم نے یہ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هُذَا نَصَبَّان آج کے سفر میں تکلیف اٹھائی۔قَالَ أَرَعَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ ۶۴ - جوان نے کہا آپ نے یہ دیکھا جب ہم۔(بقیہ حاشیہ ) لئے خدا نے فرمایا کہ مجمع البحرین میں تم کو ہمارا ایک بندہ ملے گا جو تم سے بھی زیادہ عالم ہے۔موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ میں ان تک کس طرح پہنچوں؟ ارشاد ہوا کہ تھیلی میں ایک مچھلی رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم ہو وہاں وہ ملے گا۔جب بحکم خدا موسیٰ علیہ السلام یوشع بن نون کو ہمراہ لے کر چلے ایک موقع پر پہنچے جہاں وہ ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے مچھلی تھیلی میں سے تڑپ کر دریا میں جاگری اور جہاں تک وہ جاتی تھی پانی میں ایک سوراخ سا ہو جاتا تھا اور پانی ادھر اُدھر سے نہیں ملتا تھا۔جب بیدار ہوئے تو یوشع مچھلی کا قصہ یاد دلانا بھول گئے اور وہاں سے آگے بڑھے۔رات تک چلتے رہے یہاں تک کہ جب دوسرے روز صبح کا وقت ہوا تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کھانا مانگا اور اس منزل میں موسیٰ علیہ السلام تھک گئے تھے۔مچھلی کو دیکھا تو ندارد۔اس وقت یوشع نے ذکر کیا کہ میں آپ سے کہنا بھول گیا۔شیطان نے مجھے بھلا دیا پھر دونوں صاحب واپس پلٹے اور اُسی مقام پر آئے اور پھر اس شخص سے ملے جسے علم لدنی دیا گیا تھا اَوْ اَمْضِيَ حُقُبًا۔دیکھو انبیاء علیہ السلام کو علم کا شوق کیسا ہے اور وہ صاحب علم کو کس طرح ڈھونڈتے ہیں۔نَسِيَا حُوْتَهُما مچھلی بھنی ہوئی نہ تھی بلکہ بطور نشان کے ان کو دی گئی تھی کہ جہاں وہ سر کے گی و ہیں وہ عبد ہو گا۔یہ بحث کہ خضر نبی ہے یا کون؟ مولانا نورالدین صاحب خضر کو فرشتہ جانتے تھے اور اس واقعہ کو موسیٰ کا کشف معراج کی طرح سمجھتے تھے۔خضر کے فرشتہ ہونے کا ذکر اور اس کی تحقیق اِصَابَهُ فِي شَرْحِ الصَّحَابَةِ اس کتاب کا معروف نام "الاصابة في تمييز الصحابة‘ ہے) میں خوب کی گئی ہے۔آیت نمبر ۶۲۔سربیا۔دیودار کی لکڑی کا برادہ رگڑ کر مچھلی کے منہ میں ڈال دیا جائے تو دیر تک زندہ رہتی ہے۔یہ طلبی بات ہے مچھلی زندہ تھی۔آیت نمبر ۶۳۔غَدَآرنا۔واحد کو تثنیہ اور جمع کی جگہ تشنہ اور تشنہ کی جگہ جمع بولتے ہیں کسی مناسبت کی وجہ سے جیسے مُنِعَتْ قُلُوبُكُمَا - قَلْبَاكُمَا نہیں فرمایا۔آیت نمبر ۶۴ - قال۔شاگر دو استاد، مرید و مرشد میں کیسے تعلقات ہونا چاہئے وہ اس بیان میں زیر نظر رہیں۔