اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 616 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 616

سبحن الذي ١٥ ۶۱۶ الكهف ١٨ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَتِ اللهِ مَنْ يَهْدِ الله میں ہیں۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے اللہ جسے ہدایت دے تو وہی ہدایت پاوے لے اور وہ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ جسے راہ سے ہٹا دے تو ہرگز نہ پائے گا تو اس وَلِيًّا مُرْشِدًان نچ کے لئے کوئی حمایتی راہ ہر۔وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَ هُمْ رُقُودٌ ۱۹۔اور اے مخاطب ! تو ان کو خیال کرے کہ وہ ۱۹۔ونُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ جاگتے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں ہم ان کو کروٹیں بدلواتے ہیں دائیں بائیں اور ان کا کتا پھیلائے وَكَلْبُهُمْ بَاسِطَ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ ہوئے ہے اپنے دونوں ہاتھ چوکھٹ پر اگر تو ان لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمُ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا کو جھانک کر دیکھے تو ضرور پیٹھ پھیر کے بھاگے اُن سے اور تجھ میں اُن سے ایک دہشت سما جائے۔وَلَمْلِنْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا وَكَذَلِكَ بَعَثْنُهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ ۲۰- اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تا کہ وہ آپس قَابِلُ مِنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا میں کچھ پوچھ پانچھ کر لیں۔اُن میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم کتنی دیر ٹھہرے، دوسروں يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ نے جواب دیا ہم ایک دن یا ایک دن سے کم أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمُ ٹھہرے۔پھر سب نے کہا ہمارا رب ہی خوب بِوَرِقِكُمْ هَذِةٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ جانتا ہے جتنا ہم ٹھہرے پھر اب بھیجو اپنوں میں سے کسی کو یہ اپنا روپیہ دے کر شہر کی طرف تو اَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْه وه عمدہ کھانا دیکھ کر ہمارے پاس لائے وہاں سے وہ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًان کھانا اور آہستگی سے جائے اور کسی کو بال برابر ؟ تمہاری خبر نہ ہونے دے۔جیسے اصحاب کہف کو حق گوئی کی اللہ نے ہدایت دی۔آیت نمبر ۱۹۔تَحْسَبُهُمْ۔ہمارے حضور پر اصحاب کہف کا حال منکشف ہوا تھا اور آپ نے ان کو دیکھا تھا۔رقود۔یعنی وہ غار ایسا خوفناک ہے کہ وہاں سوتا ہوا آدمی جاگتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ کروٹیں بدل رہا ہے چنانچہ دہشتناک پہاڑوں اور جنگلوں میں ایسے ہی تو ہمات ہوا کرتے ہیں بلکہ خوفناک آوازیں بھی کانوں میں آ جاتی ہیں بلکہ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ تو ان کو جھانکے تو پیٹھ موڑ کر بھاگے اور دہشت سے بھر جائے۔