اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 614 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 614

سبحن الذي ١٥ ۶۱۴ الكهف ١٨ أمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَبَ الْكَهْفِ ۱۰۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے۔وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ أَيْتِنَا عَجَبًا إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا۔جب پناہ گزیں ہوئے تکلیف کے بعد چند ا۔رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيْئَ لَنَا جوان غار میں ، تو دعا مانگی اے ہمارے ربّ! آپ ہمیں اپنے ہی پاس کی رحمت دیجئے اور ہمارے کام کی کامیابی آمادہ کر دیجئے۔مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا فَضَرَبْنَا عَلَى أَذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ ۱۲۔تو ہم نے اُن کے کانوں پر غار میں چند عدَدًان سال تھپکی دی۔ثُمَّ بَعَثْنَهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصى ۱۳۔پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تا کہ ہم معلوم کریں کہ دو جماعتوں میں سے کس نے خوب یا درکھی لِمَا لَبِثُوا أَمَدًان 170- ٹھہرنے کی مدت۔نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ ۱۴۔ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں ان کا حال بیچ فِتْيَةٌ آمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنَهُمْ هُدًى ® سچ کہ وہ چند جوان تھے انہوں نے اپنے رب کو ا مانا اور ہم نے ان کو دین کی زیادہ سمجھ دی۔آیت نمبر ۱۰۔الرقیم۔اُس جنگل یا پہاڑ کا نام ہے جس میں غار کہف تھا اور کثرت سے تحریر کرنے والے، کھودنے والے، مصوّر، مُنقر وغیرہ ہوں گے۔عَجَبًا۔اصحاب کہف کی عجیب روایات میں سے یہ ہے کہ مدتوں وہ غار کے اندرسوئے رہے۔کسی نے دو سوسال کسی نے تین سونو سال بیان کیا ہے۔پھر ان کو جگایا تا کہ مدت قیام کا علم دیکھیں کس کو ہے۔اس میں فسانہ گویوں نے بہت سی عجیب باتیں تراشی ہیں۔جہاں تک ممکن ہوگا انشاء اللہ ہم صحیح بیان کریں گے۔آیت نمبر ۱۴۔آمَنُوا - ایمان کا لفظ قرآن شریف میں چار محل پر آتا ہے ایک وہ امور جن کا مدار مَا جَاءَ بِهِ النبی پر ہے جو گھٹتا بڑھتا نہیں یا احکام دنیا پر ہے مثل نکاح وغیرہ۔یہ امور ظاہری کا انقیاد ہے۔دوسرے وہ امور جن کا مدار آخرت پر ہے جیسے اعتقاد صحیحہ و اعمال صالحہ۔یہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے مثل شجر کے۔تیسرے صرف تصدیق قلبی۔چوتھے سکیت قلبی۔یہ چاروں معانی خاص خاص ہیں اور کسی قرینہ کی وجہ سے مقام کے موافق معنی دیتے ہیں۔