اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 613 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 613

سبحن الذي ١٥ ۶۱۳ الكهف ١٨۔مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَا بِهِمْ۔اس بات کا ان کو کچھ بھی علم نہیں ہے لے اور نہ ان کے باپ دادوں کو لے بہت بڑی بات ہے كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمُ جوان کے منہ سے نکلتی ہے سے وہ کہتے ہی کیا ہیں سو إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا مگر صرف جھوٹ ہی جھوٹ۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ۔پس اے رسول! کیا تو اپنی جان کھپاوے گا إن لم يُؤْمِنُوا بِهُذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ان کے پیچھے وہ اگر اس بات کو نہ مانیں گے لَّمْ پبچتا بچتا کر۔إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا - کچھ شک نہیں کہ ہم نے زمین کی سب۔چیزوں کو زینت دار بنا کر آدمیوں کے واسطے لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا آزمائش کا سامان بنایا ہے تا کہ ہم اس کو انعام دیں جو ان میں سے اچھا عمل کرنے والا ہے۔وَإِنَّا لَجُعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًان - ہم ضرور کرنے والے ہیں اس کو جو زمین کے او پر ہے صاف چٹیل میدان۔ے الہیات میں بڑے نادان جاہل ہیں۔ے یعنی قدیم سے جہالت چلی آ رہی ہے۔سے یعنی دل سے نہیں نکلتی کہ صحیح ہو۔آیت نمبر ۶ - مِنْ عِلْمٍ۔ان کو سائنس دانی کا بڑا دعویٰ ہے مگر مذہبی علم و تقویٰ اور روحانی کمالات سے بالکل بے بہرہ و جاہل مطلق ہیں اور ان کے آباء بھی ایک جاہل بُت پرست قوم تھے۔كَذِبًا۔آپ خود الہیات سے جاہل ، باپ دادا بھی جاہل۔بات کہیں تو جھوٹی دعا کی۔اس سے بڑھ کر قوم دجال کون سی ہوگی۔آیت نمبر ۷۔فَلَعَلَّت۔بعد رسول اللہ اللہ کے اس آیت شریف میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی تسلی دی جاتی ہے اور زیادہ فکر سے روکا جاتا ہے۔آیت نمبر - زينة۔دیکھو یورپ کی دستکاری نے وہ درجہ حاصل کر لیا ہے کہ ہر ایک ولایتی چیز پسند کی جاتی ہے۔اَحْسَنُ۔دنیوی زیب وزینت میں کون بڑا کاریگر ہے ظاہر کیا جائے گا۔آیت نمبر ۹۔جُرُزًا۔یعنی اب تو زمین میں سب زینتیں موجود ہیں ایک دن ایسا ہوگا کہ کچھ نہ رہے گا یعنی نصاری جو آدمی کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور دنیوی زینتوں میں اعلیٰ درجہ پر پہنچے ہوئے ہیں یہ کچھ نہ رہیں گے۔