اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 612
سبحن الذي ١٥ ۶۱۲ الكهف ١٨ سُوْرَةُ الْكَهْفِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَةٌ وَّ إِحْدَى عَشْرَةَ ايَةً وَّ اثْنَا عَشَرَ رُكُوعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ کہف کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتُبَ - ہر ایک حمد اسی کے لئے ہے جس نے اپنے پیارے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں کچھ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجَاةٌ کجی نہ رکھی۔قَيْمَا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ ۳۔اسے سیدھا مستقیم بنایا تاکہ وہ ایک سخت وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُونَ عَذاب سے ڈراوے اللہ کی طرف سے اور خوشخبری ان ایمانداروں کو دے جو بھلے کام کریں الصُّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًان مَّاكِثِينَ فِيْهِ أَبَدًان یہ کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔۴۔وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔۔وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًان ۵- اور ان کو ڈرا جو کہتے ہیں کہ اللہ کا بیٹا ہے۔ے یعنی دجال پادریوں وغیرہ کے فتنہ سے۔ے یہ پیشگوئی مسیح موعود کی جماعت کے لئے ہے جو فتنہ دجال سے محفوظ ہے۔سے یعنی مشرک نصاری۔تمهید۔سورۃ بنی اسرائیل میں اکثر مخاطبت بہ یہود ہوئی اس سورۃ میں زیادہ تر نصاریٰ پھر مجوس پھر یہود سے ہے۔اس سورۃ میں امت کو ڈرایا ہے نصاری کے فتنہ سے جو آخر زمانہ میں ہونے والا تھا چنانچہ ابوداؤد اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص سورۃ کہف کی پہلی دس آیتیں (يَقُولُ بَعْضٌ ) اور پچھلی دس آیتیں یاد کر لے تو وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔کنز العمال جلدے صفحہ ۱۴۳۔ان آیتوں کے مطالعہ سے بصیر متقی کو معلوم ہو جائے گا کہ دجال کون ہیں اور اس کے افعال کیا ہیں۔عربی لغت میں دجال کے معنی گروہ عظیم۔کمپنی تجارت۔مگار ملمع ساز۔بہت لشکروں والا ہے۔یہ ایک ایسی قوم ہے جو عیسی کو خدا کا بیٹا مانتی ہے اور بڑے بڑے حیرت ناک کام زمین پر کرتی ہے یا کرے گی یہ بات پادریوں پر صادق آتی ہے جو غلط باتوں کو بہت سنوار سنوار کر پیش کرتے ہیں۔کہف کا قصہ رسول اللہ ﷺ کے واقعہ ہجرت پر بھی مشتمل ہے۔کھانا بھی پوشیدہ آتا تھا اس کا اعلان بھی نہیں ہوا۔