اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 609
سبحن الذي ١٥ ۶۰۹ بنی اسراءیل ۱۱۷ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ فَاَبَى لئے مقرر کر رکھی ہے ایک میعاد جس میں کچھ شبہ نہیں تو ظالموں نے حق پوشی ہی کی۔الظَّلِمُونَ إِلَّا كُفُورًا قُلْ أَوْ انْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَابِن رَحْمَةِ ١٠١۔کہہ دو اگر تمہارے اختیار میں ہوتے ۱۰۱۔رَبِّي إِذًا لَّا مُسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ میرے رب کی رحمت کے خزانے تو تم ضرور بند وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُوْرًان کر رکھتے خرچ ہو جانے کے ڈر سے، اور انسان نے بڑا ہی بخیل سنگ دل ہے۔11 وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آیت بَيِّنت ۱۰۲۔اور بے شک ہم نے موسیٰ کو دیں کھلی کھلی فَسَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ نو نشانیاں تو پوچھ لے بنی اسرائیل سے جب اُن کے پاس آیا موسیٰ تو اس سے فرعون لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَمُوسَى نے کہا میں ضرور گمان کرتا ہوں اے موسیٰ ! کہ تجھے تقریر تو ساحرانہ دی گئی ہے۔مَسْحُورًا قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا اَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا ۱۰۳ - موسیٰ نے کہا کچھ شک نہیں تو جان چکا ہے رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَابِرَ ۚ وَإِنِّي یہ کسی نے نہیں اتاریں مگر آسمان اور زمین ہی کے رب نے دلیلیں بھیجی ہیں اور میں ضرور گمان لَأَظُنُّكَ يُفِرْعَوْنُ مَثْبُورًا کرتا ہوں اے فرعون ! کہ تو تباہ ہوا چاہتا ہے۔فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْأَرْضِ ۱۰۴۔پھر فرعون نے ارادہ کیا کہ ملک سے فَأَغْرَقْتُهُ وَمَنْ مَّعَهُ جَمِيعًا ن بنی اسرائیل کو نکال دے تو ہم نے اُس کو اور اس کے سب ساتھ والوں کو ڈبو دیا۔وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنى إسراءیل اسْكُنُوا ۱۰۵۔اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا الْاَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ کہ تم ملک میں رہو اور جب انجام کار کا وعدہ آئے جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًات یعنی آخرت میں جی اٹھنے کے منکر ہی رہے۔گا تو ہم لے آئیں گے تم سب کو سمیٹ کر۔ے جو پارہ ۹ رکوع ۴،۳ ، ۵ میں مذکور ہیں۔آیت نمبر ۱۰۲ - تسع آیت۔پارہ ۹ رکو ۳۶ ۴ ۵ میں مذکور ہیں یعنی يَدِبَيْضًا وَفَلَقِ بَحر ، خون، ضَفَادِع، قُمَّل، جَرَادٍ، عَصَا، طوفان، غَرقُ الْيَمّ۔