اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 608 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 608

سبحن الذي ١٥ ۶۰۸ بنی اسراءیل ۱۱۷ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا میرے اور تمہارے درمیان، بے شک وہ اپنے بندوں کے حال کا بڑا خبر دار بڑا نگران ہے۔وَمَنْ يَهْدِ اللهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلْ ۹۸۔جسے اللہ ہدایت دے تو وہی راہ پانے والا ہے اور جسے وہ ہٹا دے پھر تو کبھی نہ پائے گا ان فَلَنْ تَجِدَلَهُمْ أَوْلِيَاء مِنْ دُونِهِ کے لئے کوئی مددگار اللہ کے سوا اور ہم اُن کو وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ عَلَى وُجُوهِهِمُ اٹھائیں گے قیامت کے دن اُن کے منہ کے بل عُميَّا وَ بِكُمَا وَ صُمَّا مَأْوِيهُمُ جَهَنَّمُ اوندھے،اندھے گونگے اور بہرے (حق سے ) ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہوگا۔جب کبھی اس کی آگ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنُهُمْ سَعِيرًا بجھنے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے زیادہ (جہنمیوں کے لئے)۔ذلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِابْتِنَا ۹۹ یہ ان کی سزا ہے کیونکہ وہ چھپاتے تھے وو۔وَقَالُوا إِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَانَّاءَ إِنَّا ہماری آیتوں کو اور بولے کہ کیا جب ہم ہڈیاں ہو جائیں گے اور وہ بھی چورا چورا تو کیا اس لَمَبْعُوثُوْنَ خَلْقًا جَدِيدًا وقت ہم اٹھائے جائیں گے نئی مخلوق بنا کر۔أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمواتِ ۱۰۰۔کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے وَالْأَرْضَ قَادِرُ عَلَى اَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ آسمان اور زمین پیدا کئے ہیں وہ اس پر بھی قادر ہے کہ پھر پیدا کر دے مثل ان کے لے اور ان کے لا یعنی بعد موت کے آخرت میں انہی کو پیدا کرے تو کیا تعجب ہے۔آیت نمبر ۹۸ - وَمَنْ يَهْدِ الله۔یہ رد ہے برہمو سماج اور دہریوں کا۔برہمو تمام انبیاء کو مفتری اور دروغ مصلحت آمیز کا پیرو سمجھتے ہیں۔نعوذ بالله مِنْھا۔آیت نمبر ۱۰۰۔مِثْلَهُمْ - کفار کہتے ہیں کہ عظام اور رفاہ یعنی ہمارے مُردہ اجزا پھر کس طرح ہمارے جیسے بن جائیں گے اور ہم کیونکر حالت موجودہ کی طرح زندہ ہو جائیں گے؟ تو جواب بالاستدلال اولیٰ ارشاد ہوا کہ آسمان اور زمین کو جن کے سامنے تمہاری ہستی بیچ ہے جس قادر حکیم نے علم محض سے بنا دیا تو وہ عظـام و رفاة کو تمہارے مثل یعنی خود تمہارے دوبارہ آخرت میں پیدا کرنے پر کیوں کر قادر نہیں اور جو آریہ اس آیت شریف اور نیز بعض اور آیات کو اثبات تناسخ میں پیش کرتے ہیں وہ سراسر غلط ہے کیونکہ قرآن کریم میں جہاں خلق جدید کا ذکر آتا ہے وہ بعث آخرت کے متعلق ہوتا ہے نہ دنیا میں پھر آنے سے کیونکہ دنیا میں پھر نہ آنے کا حکم إِنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ میں ہو چکا ہے۔