اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 607
سبحن الذي ١٥ ۶۰۷ بنی اسراءیل ۱۱۷ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا پڑھ لیں۔جواب دے سبحان اللہ! میں تو بس بَشَرًار سُولًان چ ایک بشر بھیجا ہوا ہی ہوں۔وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ ۹۵۔اور کس چیز نے روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب ان کے پاس ہدایت آ چکی لے مگر یہی الْهُذَى إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بات جو وہ کہنے لگے کہ کیا اللہ نے آدمی ہی کو پیغام بر بنا کر بھیجا۔بَشَرًا رَّسُوْلًا قُلْ تَوَكَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَبِكَةٌ يَمْشُونَ ٩٦۔تو کہہ دےاگر زمین میں فرشتے ہی ہوتے مُطْمَنِينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ جو اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم اتارتے ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام بر بنا کر۔مَلَكًا رَّسُولًا قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۹۷- کہہ دے اللہ کافی ہے گواہی کے لئے ے یعنی قرآن اور رسول اللہ۔(بقیہ حاشیہ) قُل۔یہ باتیں میرے اختیار میں نہیں کیونکہ میں خدا نہیں، فرشتہ نہیں ، آدمی ہوں یا یہ پیشگوئیاں اگلی کتاب یعنی توریت میں موجود تھیں کہ ویران ملک میں اس کی برکت سے نہریں بہیں گی یسعیا نبی باب ۴۱ آیت ۵۴ و باب ۱۲ آیت ۳ و ۴۱۔آیت ۱۸۔مکہ ومدینہ میں نہریں جاری اور باغ ہوں گے یسعیا باب ۵ آیت ا، استثناء باب ۳۳، امثال باب ۲۱ ، یسعیا باب -۲۸ چنانچه باغ فدک و عدن و بنی نضیر وغیرہ آنحضرت کے ہوئے۔اور اُس کے مخالفوں پر آسمان ٹوٹ پڑیں گے یعنی بلائیں آئیں گی حبقوق باب ۶۳ و ۷ و ۱۰ آیت۔چنانچہ جنگ احزاب و بدر میں اس کے نظارے دیکھے گئے اور وہ آسمان پر جائے گا کتاب اُترے گی لوگ اُسے پڑھیں گے یوحنا باب ۱۹ آیت ۱۱ و ۱۲۔چنانچہ معراج اور نزول قرآن سے یہ بات پوری ہوگئی وغیرہ سوالات جس کا جواب دیا گیا کہ هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل :۹۴) یعنی میں رسول نہیں بلکہ بشر رسول ہوں تو جس طرح رسولوں کی پیشگوئیاں بتدریج ظاہر ہوتی رہی ہیں ویسی میری بھی ہوں گی کیونکہ لِكُلِّ أَجَلِ كِتَاب الخ (الرعد: ٣٩) اور ! اور لِكُلّ نَيَا مُسْتَقَرٌّ الخ (الانعام : ٢٨) - وَمَا كَانَ لِرَسُولِ اَنْ يَأْتِيَ بِايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ (الرعد:۳۹) کا ارشاد ہے۔آیت نمبر ۹۶ - فِي الْأَرْضِ مَلَيْكَةٌ يَمُشُونَ۔معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے زمین پر اصلی طور پر چلتے پھرتے نہیں بلکہ تمثیلی حالت ہے۔