اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 605
سبحن الذي ١٥ بنی اسراءیل ۱۷ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ تو جواب دے کہ وہ میرے رب کے حکم سے ہے اور تم کو تھوڑ اسا ہی علم دیا گیا ہے۔إِلَّا قَلِيلًا وَلَبِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا ۸۷۔اور اگر ہم چاہیں تو دور کر دیں جو تیری إلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلان طرف وحی کے ذریعہ پہنچا ہے پھر نہ پاوے تو اس کے لئے کوئی وکیل ہمارے سامنے۔إِلَّا رَحْمَةً مِنْ رَّبِّكَ إِنَّ فَضْلَهُ ۸۸ مگر ہاں تیرے رب کی مہر بانی ہی ہو تو ہوئے کچھ شک نہیں کہ اس کا فضل تجھ پر بہت كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا ہی بڑھا ہوا ہے۔۔لے کھڑا رہنے والا ، واپس دلانے کو یا بحث کرنے کو۔سے یعنی رب کی مہربانی کی وجہ سے وحی کے احکام باقی رہ سکتے ہیں پھر مل سکتے ہیں۔سے یعنی تو اشرف المخلوقات اور افضل الموجودات ہے اور کوئی وحی منسوخ نہیں۔(بقیہ حاشیہ ) قرآن شریف سے روح کی تشریح ذیل میں معلوم ہوگی اس ہمارے زمانہ میں روح کچھ مشتبہ سا لفظ ہو گیا ہے بعض نے کہا خون کو کہتے ہیں بعض نے کہا اجزاء بخار یہ ہیں جو خلط سے پیدا ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ابن قسیم اور حضرت غزالی نے بھی اس پر مبسوط رسالے لکھے ہیں۔فی الحقیقت تو روح کلام الہی کو بھی کہتے ہیں اور نبی کو جو اس کا پہچاننے والا ہوتا ہے، پھر جبرئیل کو جو اس کا حامل اور مخزن ہوتا ہے۔کلام الہی کی مثال یعنی روح بمعنی کلام الہی جو آیا ہے جیسا پارہ ۲۵ رکوع ۶ میں ہے وَكَذَلِكَ اَوْ حَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا الخ (الشورى :۵۳) اور بِالرُّوحِ مِنْ اَمْرِهِ) (النحل :٣) میں اور يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِم (المؤمن : ۱٦) میں وحی اور کلام الہی کو روح اس لئے کہا کہ انسان مردہ کوئی حیات اس سے حاصل ہوتی ہے اور یہی محاورہ کتب سابقہ کا ہے چنانچه سموئیل باب ۲۰ آیت ۲۱ اور امثال باب ۱ آیت ۳۲ میں روح کے کئی اور معنی قرآن مجید اور توریت و انجیل میں نہیں۔ایک کلام الہی۔دوسرے معنی جبرئیل جیسے نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الشعراء :١٩٤) يَا إِلَيْهَا رُوحَنَا (مريم) : ١٨) يَارُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ (النحل :۱۰۳) تیسرے معنی انبیاء جیسے القُهَا إلى مَرْيَمَ وَرُوحُ منه (النساء : ۱۲۵)۔چوتھے بمعنے حیات جسمانی یا روح حیوانی جیسے نَفَخْتُ فِيهِ من روحى (ص ۱۹۴ ) اور اس کے تحت میں روح طبعی اور نفسانی۔پہلی کا تعلق دل سے اور دوسری کا جگر سے اور تیسری کا دماغ سے پانچویں جیسا کہ توریت میں ہے پانی، ہوا، روح ہے۔پیدائش باب ۱ آیت ۲ اور نیک و بد جذبات حز قیل نحمیاہ باب ۱۶ آیت ۱۴ چھٹے بمعنی ایمانی حیات یا روحانی جیسے لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال : ۲۵) یا حيوة طيبة (النحل : ٩٨) وغيره - آیت نمبر ۸۸- كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا۔یعنی تیری شریعت منسوخ نہیں، منقطع نہیں ہمیشہ ہمیشہ دائی ومستقل ہے اور تو اشرف المخلوقات وافضل الموجودات ہے ہے بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر