اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 603 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 603

سبحن الذي ١٥ كَانَ مَشْهُودًا ۶۰۳ قرآن ہے۔بنی اسراءیل ۱۱۷ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدُ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَلَى ۸۰۔اور رات کے کچھ حصہ میں بیدار رہ کر أنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا قرآن نماز تہجد میں پڑھو۔یہ تمہارے لئے زیادتی ہے لے قریب ہی کھڑا کرے گا تیرا ربّ مقام محمود میں۔وَقُل رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ ۱۔اور کہہ اے میرے ربّ! مجھ کو اچھے ۸۱ خْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَل مقام میں داخل کر اور مجھے اچھی طرح سے نکال کے تي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَنَّا نَّصِيرًا لے اے پڑھنے والے تجھے۔ے آبرو اور عزت کے ساتھ مکہ سے جہاں میں ہوں۔اور میرے لئے اپنے پاس سے خاص قوت دار غلبہ عنایت فرما۔آیت نمبر ۸۰ - فَتَهَجَّدْ - هَجُودٌ کے معنے سونا۔(هَلَّا طَرَقْتَنَا وَالرِّفَاقَ هَجُودُ میری پیاری کیوں نہیں آتی ساتھی تو سب سو گئے ہیں )۔تھجد کے معنے نیند کو ہٹا کر کھڑا ہونا محنت کرنا اللہ کے لئے۔اس میں اکثر اہل دل کو پانچ روپیہ کے پولیس والے نے مدد دی ہے اس طرح کہ وہ اپنی ڈیوٹی رات کو ادا کرتا پھرتا ہے اور اعلیٰ درجہ کے آرام و آسائش اور پلنگوں پر سونے والے اپنی ڈیوٹی سے غافل پڑے ہیں۔عبرت ،عبرت، عبرت اور نماز تہجد ملا کر نماز میں چھ ہو گئیں۔تین دن کی تین رات کی۔آخر نماز یعنی تہجد میں فضیلت زیادہ ہے جیسا کہ حدیث تَقَرُّبُ بِالنَّوافِل سے معلوم ہوتا ہے۔مَقَامًا مَّحْمُودًا۔اس پارہ کے دوسرے رکوع کا حاشیہ دیکھو ر ز بیان قرآن کے متعلق کہ لفظ خاص اور مراد عام ، یہاں بھی شروع رکوع سے وہی رنگ ہے تو تہجد رسول اللہ ﷺ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ عام ہے اور رات دن کی نمازوں کی ترتیب بھی بہت ہی مسلسل اور قریب قریب ہے دن کے اول حصہ میں فجر کی نماز اور رات کے اول حصہ میں مغرب۔دن کے وسطی حصہ میں ظہر اور اسی کے قریب قریب رات کے حصہ میں عشاء اور دن کے اخیر حصہ میں عصر کی نماز اور رات کے اخیر حصہ میں تہجد کی نماز۔پھر عصر کے بعد مغرب کی تین رکعتوں کا فرض ہونا اور اُدھر تہجد کے بعد وتر کی تین رکعت ہونا عجیب مناسبت ہے وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَعِلْمُهُ أَتَم آیت نمبر ۸۱ - سلطنا نَصِيرًا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ بڑی عزت سے مدینہ پاک میں داخل ہوئے اور آپ نے بڑی قوت وشوکت سے مکے کو فتح کرلیا۔