اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 54 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 54

سيقول ٢ ۵۴ البقرة ٢ خُلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ ۱۶۳۔مدتوں رہیں گے اسی میں۔نہ ہلکا ہو گا ان وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گی۔وَالهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ۱۴۔اور تمہارا معبود تو وہی اکیلا سچا معبود ہے جس الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ة الج کے سوا کوئی بھی معبود نہیں بے محنت انعام دینے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ۱۶۵۔بے شک آسمان اور زمین لے کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ہیر پھیر میں اور وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي جہازوں میں جولوگوں کے فائدہ کی چیزیں لے کر تَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا سمندر میں چلتے ہیں اور برسات میں جس کو اللہ اَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَّاءٍ فَاحْيَا بِهِ بدلی سے برساتا ہے پھر اُس کے ذریعہ سے زمین ا زمین میں اللہ کی رحمانیت ، رحیمیت ، وحدہ لاشریک ہونے کے نشانات ہیں۔آیت نمبر ۱۲۵ - إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ - آسمان کی بناوٹ میں بڑے بڑے نشانات ہیں۔اوّل ستاروں کے نور سے راستوں کا پتہ جنگلوں اور سمندروں میں ملتا ہے۔دوسرا نور چاند کا نور ہے اس چاند کے نور سے نباتات کا بڑھنا، دودھ پڑنا۔رات کو روشنی۔تیسرا سورج کا نور جو تمام نوروں کا اصل ہے۔ان تینوں کے بعد ایک نور وجدان انسان میں رکھا گیا ہے۔پھر نور عقل ہے۔پھر ملائک کا نور ہے۔پھر شریعت کا نور ہے، پھر اس شریعت سے قرب الہی کا نور ہے پھر مکالمہ الہیہ ہے۔ان نوروں سے انسان ایک اچھی راحت حاصل کر سکتا ہے۔وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ - زمین و آسمان کے تعلقات سے ایک اور چیز پیدا ہوتی ہے جس کو رات یا دن کہتے ہیں۔اختلاف لیل و نہار دو ستم کا ہے طول بلد کے لحاظ سے مشرق و مغرب میں اختلاف ہوتا ہے اور عرض بلد کے لحاظ سے شمال و جنوب میں اختلاف ہوتا ہے اور ان دونوں کے تعلقات سے جب اختلاف ہوتا ہے تو تبادلۂ فصول ہوتا ہے۔سردی گرمی کی ضرورتیں پڑتی ہیں وغیرہ وغیرہ فوائد۔وَالْفُلْكِ۔کشتیاں یعنی باہم ایک دوسرے ملک سے تبادلہ کے سامان بنائے۔امام اعظم فخر عالم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ورضی اللہ عنہ کے وقت بغداد میں چند دہریے تھے ایک روز امام صاحب کے پاس آئے انہوں نے متفکر صورت بنائی وہ بولے ہم تو کچھ پوچھنے آئے تھے آپ کو کیا فکر ہے انہوں نے فرمایا دیکھو بغداد میں مختلف مذاق کے لوگ رہتے ہیں اور بندر پر سامان چلا آتا ہے دہریوں نے کہا کہ ناخدا کشتیاں موجود ہیں پس امام صاحب نے لاجواب کر لیا کیونکہ فعل دلالت می کرد بر فاعل و نقش بر نقاش۔یعنی محرک بالا رادہ کام کر رہا ہے۔