اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 598
سبحن الذي ١٥ ۵۹۸ بنی اسراءیل ۱۱۷ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مگر اس بات نے کہ پہلوں نے ان کو جھٹلایا اور مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ ہمیں نے دی ہے شمود کو اونٹنی پہچانت اور پتہ کے لئے تو ظالموں نے اس پر ظلم کیا اس کا انکار کیا اور ہم تو نشانیاں ڈرانے ہی کے لئے بھیجا بِالْآيَتِ إِلَّا تَخْوِيْفًا کرتے ہیں۔وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ 4۔اور ہم نے تجھ سے کہا کہ گھیر لیا ہے تیرے وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَكَ إِلَّا فِتْنَةً رب نے سب کو اور وہ رویا جو ہم نے تجھ کو دکھایا وہ تو لوگوں کے امتحان اور تمیز کے لئے لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْآنِ ہم نے تجھ کو دکھایا تھا اور وہ ملعون جھاڑ بھی لے تیرے دشمنوں کو بھی۔(بقیہ حاشیہ ) ایمان لانے سے مگر اس قول نے کہ بشر رسول کو اللہ نے مبعوث کیا یعنی یہ قول روکنے کا باعث نہیں ہو سکتا چنانچہ پھر لوگ ایمان لائے جیسے وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا (النصر: ۳) سے ثابت ہے پس اس لحاظ سے آیت کا یہ مقصد ہوگا کہ ہم کو ارسال آیات سے اگر کوئی مانع ہے تو وہ پہلوں کی تکذیب ہے لیکن یہ کچھ معنے نہیں ہم نشان بھیجتے ہی رہیں گے جیسا وَمَا نُرْسِلُ بالأيتِ إِلَّا تَخْوِيفًا (الاسراء: (۲۰) سے ظاہر ہے دوسرا پہلو اس آیت کا یہ ہے کہ لوگ یہ درخواست کرتے تھے کہ آپ وہی نشان لائیں جن نشانوں کو پہلے نبی لا چکے جیسے ناقہ صالح اور عصا اور ید بیضا وغیرہ اور سورہ انبیاء کے پہلے رکوع سے ثابت ہے فَلْيَأْتِنَا بِايَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ مَا أَمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ (الانبياء: ۷۶) ان کو جواب دیا گیا کہ ان آیات کے بھیجنے سے کچھ فائدہ نہیں کیونکہ وہ آیات جب ہم نے بھیجے تھے تو ان پر بھی لوگ ایمان نہیں لائے تھے بلکہ ان کی تکذیب کی تو ان نشانات کے آنے سے تم بھی ایمان نہ لاؤ گے پس جیسے وہ ہلاک ہوئے تم بھی ہلاک ہو گئے۔یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ آیات سے قطعی انکار ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا بالآیات مبعوث ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّي (الانعام: (۵۸) اَوَ لَمْ تَأْتِهِمْ بَيْنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الأولى (طه: ۱۳۴) - آیت نمبر ۶۱ - الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ - معراج کے منکروں نے جہاں اس سچی صداقت پر ہنسی اڑائی وہاں یہ بھی ہنسی اڑائی کہ فرمائش پر تو آسمان پر نہ گئے اور از خود زمین و آسمان جنت و دوزخ کی سب سیر کر آئے۔جہنم کی دیکھتی آگ میں سبز درخت دیکھ آئے یہ عجیب بات ہے۔صلى الله