اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 597 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 597

سبحن الذي ١٥ ۵۹۷ بنی اسراءیل ۱۷ يَوْمِ الْقِمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيدًا کریں گے قیامت سے پہلے یا اُس کو سخت سے سخت عذاب دیں گے یہ محفوظ کتاب میں لکھا كَانَ ذُلِكَ فِي الْكِتُبِ مَسْطُورًا ہوا ہے۔وَمَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْایتِ إِلَّا آن ۶۰۔اور نہیں روکا ہم کو ان آیات کے بھیجنے سے آیت نمبر ۶۰ - وَمَا مَنَحَنَا۔یعنی یہاں لفظ مَنَعَ ہے امتناع نہیں۔دوسرے الف لام استغراق کا ہے یا عہد کا۔اگر استغراق کا ہے تو معنی یہ ہوئے کہ ہم کو کسی نے کل آیات کے بھیجنے سے نہیں روکا اور اگر عہد ہی لیں تو یہ ہوئے کہ بعض آیات کے نتیجہ سے نہیں روکا۔تیسرے الا عاطفہ ہے جیسا کہ اس آیت میں لَا يَخَافُ لَدَى الْمُرْسَلُوْنَ (النمل (1) خلاصہ یہ کہ کوئی چیز ارسال معجزات سے مانع نہیں ہے الأَوَّلُونَ جن معجزات کا انکار کر دیا ہے وہ ہمیشہ عذاب و قہر کے موجب ہوتے ہیں چونکہ آنحضرت رحمۃ للعالمین ہیں اس لئے اس قسم کے معجزات سے اعراض فرماتے رہے بعض متعصبین نے اس آیت سے آنحضرت کے معجزات ہی کا انکار کر دیا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْهَا اور دو دلیلیں پیش کیں کہ قرآن میں معجزہ اور خرق عادت کا لفظ کہیں نہیں۔دوسرے اسی آیت سے معجزات کا انکار کیا ہے حالانکہ یہاں الا بمعنی واو عاطف ہے جیسا کہ حاشیہ میں مذکور ہوا اور معجزہ اور خرق عادت کے لفظ لغو ہیں کیونکہ کوئی واقعہ نہیں کہ جو خلاف عادتِ الہی ہو پس انبیاء ہمیشہ نشانات دکھاتے رہے اور وہ عادتِ الہی کے موافق ہے۔معجزہ کا لفظ یعنی عاجز کرنے والا یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ ایک مقابل اپنے مقابل کو کسی طرح سے عاجز کر سکتا ہے ہاں نشان و آیت انبیاء واولیاء سے مخصوص ہے اس لئے معجزہ اور خرق عادت الفاظ قرآن و احادیث اور اعلیٰ درجہ کی کتب اسلام میں نہیں بلکہ آیت و برہان و فرقان کے الفاظ آتے ہیں دیکھو نبی امی اللہ ان غلط الفاظ کے استعمال سے محفوظ رہے جس میں بڑے بڑے علماء و فضلا پھنس گئے۔خلاصہ یہ کہ ارسال آیات سے ہم کسی طرح رک نہیں سکتے جو کوئی تصدیق کرے یا تکذیب یہاں بعض فلسفی خیال کے لوگوں نے ٹھو کر کھائی ہے چنانچہ سید احمد خان صاحب بھی کہ وہ ظہور معجزات کے بقول عام قائل نہیں مگر خمود کے لئے اونٹنی اور موسیٰ کا عصا و غیرہ معجزات و آیات قرآنی خیال مذکورہ کے مکذب ہیں۔ہاں وَ مَا مَنَعَنَا کے لفظ سے کوئی یہ بھی نہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ نشانات کے اظہار سے رک گیا ہے کیونکہ لفظ تو یہ ہیں کہ ہمیں پہلوں کی تکذیب کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا ان لفظوں سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ رک بھی جائے جیسے يُخْدِعُونَ الله (البقرة : ۱۰) یہ لازم نہیں آتا کہ وہ دھو کہ کھائے بھی اور اسی کی مثل اس سورۃ کے رکوع 11 میں ایک آیت ہے کہ وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَ هُمُ الْهُدَى إِلَّا أَنْ قَالُوا اَبَعَثَ اللهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا (الاســـــــــر آء: ۹۵) کہ نہیں روکا لوگوں کو