اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 592 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 592

سبحن الذي ١٥ ۵۹۲ بنی اسراءیل ۱۷ b وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۳۷۔اور نہ کہا کرو وہ بات جس کا علم تم کو نہیں إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيكَ بے شک کان اور آنکھ اور مرکز قومی یعنی دل ان كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا سب سے پوچھ پاچھ ہونے والی ہے۔وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ ۳۸۔اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو ہرگز نہ پھاڑ سکو گے زمین کو اور نہ اکٹر اکڑ کر پہاڑوں تک لمبے تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طولان ہو سکو گے۔كُلُّ ذلِكَ كَانَ سَيْتُهُ عِنْدَ رَبِّكَ ٣٩ - سب ۳۹۔سب خصلتیں بُری ہیں اور تیرے رب کے مَكْرُوهًان نزدیک نا پسند ہیں۔ذلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ ۴۰۔یہ ان باتوں میں سے ہیں جو وحی کی تیرے الْحِكْمَةِ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا أَخَرَ رب نے تیری طرف حکمت اور مصلحت سے اور نہ ٹھہرا لینا اللہ کے ساتھ دوسرا اللہ تو (اے آیت نمبر ۳۷ - لَا تَقْفُ۔نا معلوم بات کے کہنے سے روکا لیکن اس کی خلاف ورزی پر سوال سمع و بَصَر اور فؤاد سے ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لسان تو ترجمان ہے اس کو ذاتی طور پر علم حاصل کرنے کے حواس نہیں دیئے گئے یہ جو بیان کرے گی وہ دوسرے حواس سے لے کر بیان کرے گی اور اگر وہ جھوٹ ہوگا تو دوسرے حواس اس کے خلاف گواہی دیں گے تو انسان اپنے آپ سے ہی ملزم ہوگا۔آیت نمبر ۴۰۔چونکہ مشرکین معبودانِ باطلہ کو خدا تعالیٰ کے حضور میں پہنچنے اور اس کے قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور ان کو اپنا سفارشی سمجھتے ہیں جیسا کہ سورہ زمر رکوع ۱ پارہ ۲۳ میں اور سورۃ یونس رکوع ۲ پارہ ۱۱ میں فرمایا مشرکین کا قول نقل کرتے ہوئے مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلفى (الزمر: ٢)- وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ (يونس: ۱۹ )۔اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر مشرکوں کا یہ خیال صحیح ہوتا تو مدتوں سے یہ ہمارے حضور میں رستہ پالیتے کیونکہ جب کسی بادشاہ کے وزراء اور درباریوں کو راضی کر لیا جائے پھر اس دربار میں پہنچنے سے کوئی روک نہیں ہوتی لیکن ان مشرکوں میں سے تو آج تک کسی کو دربار میں رسائی نہ ہوئی اور نہ پروانہ خوشنودی کسی کو ملا اور اگر ان کا خیال سچا ہوتا تو ہمارا رسول تو ایک اکیلا ہے اور یہ سب ان معبودوں کا جن کو تم درباری سمجھتے ہو دشمن ہے پھر وہ بھی اس کے جواب میں اس کے دشمن ہوں