اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 590
سبحن الذي ١٥ ۵۹۰ بنی اسراءیل ۱۷ وَإِمَّا تُعْرِضَنَ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ ۲۹ - اگر منہ پھیرے سائلوں اور حاجت مندوں سے اپنے رب کی مہربانی کی امید میں جس کا تجھے ربك تَرْجُوهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُورًا انتظار ہے تو ان سے کہہ دے نرمی کی بات۔وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ ۳۰۔اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا رکھنا اور نہ بالکل کھول دینا سے تو پھر بیٹھ رہے گا محسوران ملامت کیا ہوا اور ہارا ہوا۔۔اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ ۳۱۔بے شک تیرا رب کشادہ دست کرتا ہے وَيَقْدِرُ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا جسے چاہے اور تنگ دست کرتا ہے جسے چاہے نے بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کا بڑا بَصِيرًان ہنچے خبردار بڑا دیکھنے والا ہے۔لے یعنی موجود نہیں اللہ سے امید ہے کہ وہ دلائے گا تو دے گا۔یعنی بالکل بھیل نہ بن جانا۔یعنی مسرف نہ بن جانا۔سب خرچ نہ کر دینا۔ہے تو اس کو حقارت سے نہ دیکھنا۔قابل رحم سمجھنا اور عبرت لینا۔آیت نمبر ۲۹ - قَوْلًا مَّيْسُورًا۔یعنی سائل سے کہے بھائی میں خود محتاج ہوں خدا دے گا تو میں ضرور تمہاری خدمت کر دوں گا یا اسے کوئی ایسی تدبیر بتا دے جس سے اس کو یسر حاصل ہو جائے۔آیت نمبر ۳۰۔مَغْلُولَةً۔قاعدہ ہے کہ بچے وغیرہ جو چیز دینا نہیں چاہتے ہیں اس کو مٹھی میں پکڑ کر گلے سے چکا لیتے ہیں جو شدت بخل کی علامت ہے۔مَحْسُورًا۔اس آیت میں سخت بخل اور نہایت زیادہ خرچ کرنے کو منع کیا گیا ہے اور اس پر وہ بدنتیجوں کا مرتب ہونا یہ بطور وجہ نہی کے بیان فرمایا ہے۔اوّل مَلُومًا جب انسان بخل کرتا ہے تو گل دنیا اس کو ملامت کرتی ہے۔دوسرا مَحْسُورًا جب انسان سب کچھ دے بیٹھتا ہے تو پھر اس کی ضروریات کے لئے کچھ رہتا نہیں چاروں طرف سے اسے ضرورتیں پیش آتیں یہ کسی کو ہٹا نہیں سکتا انہیں میں گھرا رہتا ہے۔آیت نمبر ۳ - يَبْسُطُ الرّزق۔جن کو خدا نے کشادہ روزی دی ہے ان پر حسد نہیں کرنا چاہئے بلکہ مَا شَاءَ اللهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہنا چاہئے اور جیسے کسی عمدہ پھول کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اسی طرح خداداد نعمت والے کو دیکھ کر خوش ہونا چاہئے۔وَيَقْدِرُ جن کو تنگ روزی دی ہے اُن کو حقارت سے نہیں دیکھنا بلکہ کثرت سے استغفار پڑھنا اور گناہوں سے بچنا۔