اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 589
سبحن الذي ١٥ ۵۸۹ بنی اسراءیل ۱۱۷ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ ۲۵۔اور جھکا دے اُن کے آگے عاجزی کا بازو نیازمندی سے اور ان کے لئے دعا کرنا کہ اے وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا انہوں نے مجھ چھوٹے سے کو پالا ہے۔رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ ۲۶۔تمہارا رب بخوبی جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔اگر تم سعادت مند ہو گے تو اللہ تعالیٰ تَكُوْنُوْاصْلِحِيْنَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا رجوع کرنے والوں کا ضرور عیب ڈھانپنے والا ہے۔وَاتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ ۲۷۔اور ہر ایک قرابت دار کو اُس کا حق دینا اور بے سامان اور مسافر کو مگر فضول خرچیوں وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا میں نہ اڑانا۔اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيْطِينِ -۲۸ بے شک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناقد را ہے۔ا یعنی کفایت شعاری کر۔دل غنی رکھ کر۔آیت نمبر ۲۶- فِي نُفُوسِكُمْ۔یعنی سعادت سمجھ کر خدمت کرتے ہو یا بوجھ مجھ کر بے دلی سے نباہ رہے ہو۔للا وابِینَ۔یعنی اگر نیک نیتی سے ماں باپ کو کچھ کہہ بیٹھے جس سے ناراض ہوں پھر تو بہ کر لی اور انہیں خوش کرلیا تو اللہ غفور ہے یا یہ کوشش کرتا ہے لیکن وہ خوش نہیں ہوتے مثلا کوئی مذہبی معاملہ ان کی رضا میں روک ہے تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔دعا سے انسان ماں باپ کی خدمت ان کی زندگی میں اور ان کی زندگی کے بعد ہر وقت کرسکتا ہے۔آیت نمبر ۲۸۔اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ الخ - شیطان کو یہ حالت پیش آئی کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا اس کو ایسا حکم دیا گیا جس سے اس کا تکبر ٹوٹ جائے یعنی آدم کی فرمانبرداری۔اس نے اس کو ذلت سمجھا اور نتیجہ میں جس بات سے بچتا تھا وہی ہوئی کہ وہ ذلیل اور ملعون کرایا گیا اور وہ اس نعمت کا بھی ناشکرا ہوا جو اس کو پہلے سے حاصل تھی۔اسی طرح سے جو بے جا خرچ کرتے ہیں وہ اس کو ترک کرنا اپنی ذلت سمجھتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مال خرچ ہو جانے سے خود ذلیل ہو جاتے ہیں آخر اُن کا دل کڑھتا اور خدا کی پہلی نعمت کے بھی ناشکرے ہو جاتے اور خدا کو کوسنے لگ جاتے ہیں، یہی شیطان کا بھائی بننا ہے۔