اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 588
سبحن الذي ١٥ ۵۸۸ بنی اسراءیل ۱۱۷ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَيْكَ كَانَ سَحْيُهُمُ کوشش کی اچھی طرح سے اور وہ ایماندار بھی ہو تو یہی لوگ ہیں جن کی کوشش قابل قدر بھی ہے۔مشْكُورًان كُلًّا تُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاء ۲۱۔ہر ایک کو ہم مدد پہنچاتے ہیں یہ ہوں یا وہ پلے رَبَّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ تیرے رب کی بخشش سے ( یعنی اپنی ذاتی کریمی سے ) اور تیرے رب کی بخشش تو کچھ محدود اور مَحْظُورًا کوتاہ نہیں۔أنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ۲۲۔دیکھ ہم نے کیسے بزرگی دی بعض کو بعض پر اور آخرت کے درجے تو بہت بڑھ کر ہیں اور وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَتٍ وَ أَكْبَرُ تَفْضِيلا کمال میں بہت ہی برتر ہیں۔لَا تَجْعَلْ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ ۲۳ - اللہ کے ساتھ کوئی اور اللہ نہ ٹھہرا لینا نہیں تو تو بیٹھ جائے گا مذمت کیا گیالا چار بن کر۔مَنْمُوْمًا مَّخْذُولان وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۲۴۔اور قطعی حکم دے دیا تیرے رب نے ہے کہ - وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ کسی کو نہ پوجو مگر اللہ ہی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔اور اگر پہنچ جائیں بڑھاپے کو الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُلْ تیرے سامنے دونوں میں سے کوئی یا دونوں تو نَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا اُن کو ہوں بھی نہ کہنا اور نہ جھڑ کنا اور ان سے تعظیم و آداب کی بات کرنا۔قَوْلًا كَرِيمًا ا یعنی طالبان دنیا یا عاشقان مولی و آخرت۔سے یعنی حکم شرعی دیا کوئی نہیں۔آیت نمبر ۲۳ - لَا تَجْعَلْ - طرز بیان قرآنی یا د رکھنا چاہئے کہ کہیں عام لوگ مراد ہوتے ہیں اور الفاظ مخصوص اور مخاطب رسول اللہ ہوتے ہیں جیسا کہ اس آیت شریف میں ہے۔آیت نمبر ۲۴ - عِندَكَ مِشْكَوة بَابُ البِرِّ وَالصَّلَةِ (مشكوة كتاب الادب باب البر والصلة الفصل الثالث حدیث نمبر (۴۹۴) میں ابوامامہ سے روایت ہے کہ آنحضرت سے ماں باپ کے حقوق پوچھے گئے تو فرمایا کہ وہ تیرے جنت دوزخ ہیں اور ابو ہریرہ سے مرفوعی روایت ہے کہ ہر گناہ کے لئے ایک قاعدہ مقرر ہے کہ چاہے بخش دے مگر ماں باپ کی نافرمانی کے لئے نہیں اس کا نتیجہ بہت جلد ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا ہی میں ظاہر ہو جاتا ہے۔