اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 587
سبحن الذي ١٥ ۵۸۷ بنی اسراءیل ۱۷ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى اٹھاتا ہی نہیں اور ہم بھی عذاب نہیں کرتے کسی پر جب تک کہ کوئی رسول ہم نہ بھیج دیں۔نَبْعَثَ رَسُولًا وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا ۱۷۔اور جب ہم چاہتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَ عَلَيْهَا الْقَوْلُ کر دیں تو اس بستی کے مال دار لوگوں کی طرف ہم ہم بھیجتے ہیں تو وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں لے فَدَمَّرْنُهَا تَدْمِيرا پھر ان پر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو ہم ہلاک کر دیتے ہیں ان کو بخوبی۔وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ ۱۸۔اور ہم نے کتنی امتوں کو تباہ کر دیا نوح کے نُوحٍ وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ بعد اور تیرا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہ جاننے پر بڑا خبر دار بڑا دیکھنے والا ہے۔خَبِيرًا بَصِيرًا ۱۹۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَلْنَا لَهُ فِيهَا مَا ١٩- جو شخص جلدی کا طالب ہو (یعنی دنیا کا) تو نَشَاءُ لِمَنْ تُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ ہم جلد دیتے ہیں اس کو وہیں جو ہم چاہیں اور جسے چاہیں پھر ہم نے اس کے لئے دوزخ قرار دیا ہے وہ اس میں داخل ہو گا بُرے حال سے يَصْلَهَا مَذْمُومًا مَّدْحُوْرًا مردود ہو کر۔وَمَنْ اَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا ۲۰۔اور جس نے آخرت چاہی اور اس کے لئے لے اور فرد جرم لگ جاتی ہے۔یعنی حکم رسول کو نہیں مانتے شرارت کرتے ہیں۔آیت نمبر ۱۶۔نَبعَثَ۔مسند امام احمد حنبل اور ابن جریر میں بھی بعض حدیثیں ایسی ملتی ہیں جن سے عوام نا واقف ہیں بہرے اور وہ جنہوں نے انبیاء ورسل کے زمانوں کو نہیں پایا یا بچے یا بوڑھے جناب الہی میں عرض کریں گے کہ ہمیں کوئی خبر نہ تھی وہاں بھی اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے لئے اُن میں رسول بھیج دے گا بغیر رسول کے عذاب نہیں ہوتا۔آیت نمبر ۱۸- گفی۔نحوی نکتہ گفی بِرَبِّكَ میں ”ب“ کیوں لگایا گیا ؟ جواب دیا گیا کہ جب مدح یا ڈم کا موقعہ آتا ہے تو ایک جملہ کے دو جملے بنا لیتے ہیں جیسے اكْتَفِ بِرَبِّكَ تو کفایت کر اپنے ربّ ہے۔كَفَى رَبُّكَ قَامَ بِاَخِيُك مدح کے مقام میں بولیں گے۔