اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 584 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 584

سبحن الذي ١٥ ۵۸۴ بنی اسراءیل ۱۱۷ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا محمد کو راتوں رات مسجد حرام سے اس اخیر مسجد تک لے جس کے اطراف (میں) ہم نے برکتیں الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ أَيْتِنَا رکھی ہیں تا کہ ہم دکھا ئیں اس کو اپنی قدرت کے إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ کرشمے ، کچھ شک نہیں کہ اللہ بڑا سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔وَاتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَجَعَلْنَهُ هُدًى - اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت فرمائی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ہم نے لبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِي ہدایت کا موجب ٹھہرایا کہ نہ بناویں میرے سوا کسی کو وکیل۔وَكِيلات ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ ۴۔ان کی نسل ہو تم جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرایا تھا بے شک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا ( یعنی نوح)۔عَبْدًا شَكُورًا وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَاعِيْلَ فِي الْكِتُبِ - اور ہم نے کھول کھول کر بیان کر دیا تھا لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ بذریعہ وحی کے ) بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم ضرور شرارت اور فساد کرو گے ملک میں دو مرتبہ اور ضرور بڑی زیادتی کرو گے۔عُلُوًّا كَبِيرًا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَوْلَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ - جب آیا ان دو میں سے پہلے فساد کا وعدہ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدِ فَجَاسُوا تو ہم نے بھیجے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے لے یعنی بیت المقدس یا مسجد نبوی یا مسیح موعود کی مسجد تک۔آیت نمبر ۵ - مَرَّتَيْنِ۔چنانچہ احبار باب ۲۶ ، یسعیا باب ۵۱ آیت ۱۹ میں اس کا بیان ہے کہ پہلی شرارت کے وقت تو بخت نصر نے بیت المقدس کو تاراج کیا اور یہود تباہ ہوئے دوسری دفعہ حضرت مسیح کی تکفیر و تکذیب کے سبب طبیطس شہزادہ روم کے ہاتھ سے غارت ہوئے اور اس نے بیت المقدس کو جلا کر گرا دیا اور بت خانہ بنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِينَ کو بھیجا جو سبت ہے اس کو بھی نہ مانا پھر آیت اِن عُدْتُمْ عُدْنَا (بنی اسرائیل: ۹) کے موافق یہودی قتل و جلا وطن کئے گئے۔آیت نمبر 1۔فَجَاسُوا۔جَوْسٌ اور جوسان کے معنے کسی ملک میں چلنا پھرنا۔مسلمانوں کو بھی کامل اتقاء کے زمانہ میں یہ غلبہ مل چکا ہے۔بہت بڑی سلطنت کے وہ مانند سلیمان و داؤد و عمالیق کے دنیا کے مالک تھے پھر جب ان کے تقویٰ میں فرق آیا تو پھر کمی ہو گئی۔