اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 583
سبحن الذي ١٥ ۵۸۳ بنی اسراءیل ۱۷ سُوْرَةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَةٌ وَّ اثْنَتَا عَشْرَةَ ايَةً وَّ اثْنَا عَشَرَ رُكُوعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ بنی اسرائیل کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً ۲۔وہ پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے پیارے آیت نمبر ۲۔اشراری۔اس آیت پر بڑے بڑے مباحثے ہوئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ معراج کے متعلق ہے بعض نے کہا اس میں معراج کا لفظ ہی نہیں ہاں اِلَى الْمَسْجِدِ الاقصی ہے تو یہ اسرای بیت المقدس تک ہے سب سے زیادہ لطیف بات یہ ہے کہ یہ راتوں رات لے جانا ہجرت کے متعلق ہے اور نشانات جن کا بیان إِمَّا نُرِيَنَّكَ میں ہے یعنی پارہ تیرہ رکوع گیارہ میں اور جن کا وعدہ کتاب ملا کی بات کی پیشگوئی ہے کہ اچانک ہیکل میں پہنچے گا وہ معراج کے طرف دلالت کرتے ہیں جو رات کے وقت ہوئی اور صحیحین میں کئی حدیثیں قتادہ ، انس اور ابن شھاب وغیرہ سے معراج کے بارہ میں آئی ہوئی ہیں اور اس کے اشارات سورۃ وَالنَّجم میں بخوبی پائے جاتے ہیں۔اور اُم ہانی کے گھر میں سونا جو حضرت علیؓ کی ہمشیر اور ابوطالب کی بیٹی ہیں اور رات کے وقت گھر کی چھت پھاڑ کر جبرئیل کا آنا پھر اسی حدیث میں دودھ کی تعبیر فطرت بتانا یعنی دین اسلام اور حضرت عائشہ کی حدیث صریح شاہد ہے کہ معراج ایک رویا تھا اور صحیح بخاری میں فاستيقظ کا لفظ موجود ہے اور بار بار نمازوں کی کمی کے لئے موسیٰ علیہ السلام کے کہنے سے جناب باری میں جانا حالت بیداری میں خلاف منشاء نبوت ہے کیونکہ بیداری کی حالت میں اگر یہ واقعہ ہوتا تو اس کے لئے دن کا وقت زیادہ موزوں تھا ہاں انبیاء علیهم السلام کی رؤیا قطعی اور یقینی ہے اور وہ بڑی بڑی پیشگوئیوں پر مبنی ہوتی ہیں جس سے دینی اور دنیوی ترقیوں کے بڑے بڑے نظارے قبل از وقت دکھائے جاتے ہیں جیسے یوسف علیہ السلام نے چاند اور سورج اور ستاروں کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا پس رویا اور پیشگوئیوں کی تعبیرات کتب تعبیر میں دیکھنا چاہئے۔میرا ایمان ہے کہ معراج عین بیداری میں معجزانہ رنگ سے آنحضرت کو جسم مبارک کے ساتھ ہوئی ہے اور وہ حالت اور مقامات دنیا اور آسمان اور دوزخ و جنت کے جو ابھی ظاہر و پیدا بھی نہ ہوئے تھے سب آپ کو دکھائے گئے یعنی طَيُّ الزَّمَانِ وَطَيُّ الْمَكَانِ اور طَيُّ العِلم ضروری کا حصول آپ کی ذات اقدس کو ہوا۔باوجود یکہ آپ اپنے بسترے سے مثل نور بھر کے مرکزی حالت سے جدا بھی نہ ہوئے اور سب واقعات واقعی اور حقیقی طور پر طے فرما لئے اور بعد معراج کے رویا ہونے پر ایک یہ بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رؤیا فرمایا ہے جیسے وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِى اَرَيْتُكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ (بنی اسرائیل : ٢١) - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ وَخُلَفَائِهِ أَجْمَعِينَ -