اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 52
سيقول ٢ ۵۲ البقرة ٢ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ ۱۵۶۔اور البتہ ہم تمہارا امتحان لیں گے انعام دینے کو کچھ خوف سے اور کچھ بھوکا رکھ کر اور وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (اور وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ ) اے پیارے محمد ! تو ) خوش خبری سنا دے ان صابروں کو۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا ۱۵۷۔جن پر جب کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو وہ بول اٹھتے ہیں ہم تو اللہ کے ( مال ) ہیں اور ہم تو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ہر حال میں اُسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔أُولَيْكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ ۱۵۸۔یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمت سے ہیں اور یہی لوگ منزل مقصود کو پہنچے وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ قف ہوئے ہیں۔لے فقہاء کہتے ہیں۔اکل حرام سے خوف ،صوفیوں کے نزدیک الہی خوف۔اور حضرت امام شافعی کہتے ہیں جہاد کی تکالیف کا خوف۔عنایات خاصہ بلا زوال ونقص۔سے جنگ میں بیٹے بھی مرتے ہیں۔کھیتی کی بھی نگرانی نہیں ہوسکتی۔(بقیہ حاشیہ) چاہئے ، حارث شاعر جاہلی کا شعر ہے۔إِنْ نَبَشْتُمُ مَا بَيْنَ مِلْحَةَ فَالصَّا قِب فِيهِ أَلَا مُوَاتُ وَالْأَحْيَاءُ دوسرا شرعی طور پر کہ جو شہید ہوتا ہے اس کی زندگی کی تمام عبادتیں روز قیامت تک لکھی جاتی ہیں۔تیسرا یہ کہ عند اللہ وہ اس زندگی سے بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں اور ان کو ہر ایک قسم کی نعمتیں اور یہاں کی خبریں بھی ملتی ہیں جس کا ذکر پاره ۴ رکوع ۸ (ال عمران: ۱۵۷ تا ۱۵۹) میں آتا ہے۔آیت نمبر ۱۵۶ - اَلْجُوع۔(۱) روزے (۲) حرام سے بچ کر بھو کے رہنا (۳) کم خوری اور ایثار۔نَقْصِ مِّنَ الْأَمْوَالِ خرج فی سبیل اللہ، مال باطل نہ لینا، زکوۃ و چندہ وغیرہ۔آیت نمبر ۱۵۷۔رجِعُونَ۔جب ہم خود اُس کے یہاں جانے والے ہیں تو کوئی چیز یا اولا دیا احباب وغیرہ کے فوت سے کیا فکر اور جانا سب کو ضروری ہے۔