اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 51
سيقول ٢ ۵۱ البقرة ٢ عَلَيْكُمْ أَيْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ میں کا جو ہماری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور تمہاری اصلاح کرتا ہے اور تم کو قرآن پڑھاتا الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَم ہے اور دانائی کی باتیں سکھاتا ہے اور تم کو (وہ) اچھی باتیں بتاتا ہے جو تم جانتے نہ تھے۔تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ) فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي ۱۵۳۔پس تم میری یاد میں لگے رہو میں تم کو نہیں بھولوں گا اور تم میرا احسان مانتے رہو اور (کبھی) ناشکری نہ کرو۔وَلَا تَكْفُرُونِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ ۱۵۴۔اے ایمان والو! نیکیوں پر ہمیشگی اور بدیوں سے بچنے اور دعائیں کرنے پر مضبوط رہو وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصّبِرِينَ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِیلِ اللهِ ۱۵۵ اور نہ کہو اُن لوگوں کو مُر دے جو اللہ کی راہ اَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءِ وَ لكِن لَّا میں مارے جائیں بلکہ وہ (اللہ کے نزدیک) زندہ ہیں لیکن تم سمجھ نہیں سکتے۔تَشْعُرُونَ آیت نمبر ۱۵۴ - يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا سخت سے سخت مشکلات سے نکلنے کا علاج اور ہر ایک چھوٹی بڑی طلب برآری کا طریقہ استعانت بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ ہے یعنی نمازیں اور دعا۔صبر کے معنی جس قدر بدیاں انسان میں موجود ہیں ان سے بچنا اور بچنے کی کوشش کرنا اور نیکیاں جو موجود ہوں ان پر دوام کرنا۔صلوۃ نماز کے ہر رکن کے بعد دعا کرنا خواہ حسب مُدعا خود قرآن وحدیث سے دعائیں لے لوخواہ اپنی ہی زبان میں دعائیں مانگ لو۔ایسوں کے ساتھ اللہ ہوتا ہے اور یہ منعم علیہ کی صراط مستقیم ہے جو انبیاء اولیاء ہیں۔کامیابی کا مجرب بے خطا یہی نسخہ ہے، کروڑوں نے آزما لیا ہے۔آیت نمبر ۱۵۵ بَلْ احیا ہے۔چونکہ مرضیات الہی کے تابع ہو کر انہوں نے زندگی جاوید حاصل کی۔عوام غلط اُن کو مردہ سمجھتے ہیں۔شہداء کی زندگی تین طرح ثابت ہے۔ایک محاورہ عرب کے مطابق کہ وہ ان مقتولوں کو جن کا بدلہ لے لیا جائے زندہ سمجھتے تھے اور جن کا بدلہ نہ لیا جائے انہیں مردہ۔اور مسلمانوں کے مقتولوں کا بدلہ ضرور لے لیا جائے گا اور جس مقصد کے لئے انہوں نے جانیں دی ہیں وہ مقصد ہو کر رہے گا۔اس محاورہ کا داخلہ دیکھنا