اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 577
ربما ١٤ ۵۷۷ التحل ١٦ عْجَمِيٌّ وَهُذَا لِسَانُ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ ہے اور یہ تو صاف صاف کھلی عربی زبان ہے۔لا إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِایتِ اللهِ ۱۰۵۔جولوگ نہیں مانتے اللہ کی آیتوں کو اللہ ان لَا يَهْدِيهِمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ کو ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔إِنَّمَا يَفْتَرِى الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ ١٠٦۔اس کے سوا نہیں کہ جھوٹی باتیں تو وہ بایتِ اللهِ ، وَأُولَيكَ هُمُ الْكَذِبُونَ گھڑتے ہیں جن کو اللہ کی آیتوں پر یقین نہیں اور یہی لوگ جھوٹے ہیں۔مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِةٍ إِلَّا مَنْ ۱۷۔جو منکر ہو اللہ کا، ایمان کے پیچھے مگر اس پر أكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَينَ بِالْإِيْمَانِ وَلَكِنْ کچھ گناہ نہیں جو مجبور کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے تسلی یافتہ ہے لیکن ہاں وہ جو دل بھر کر کافر مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ ہوا تو اُن پر اللہ کا غضب ہے اور ان پر بڑا غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ عذاب ہے۔ذلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَوةَ الدُّنْيَا -۱۰۸۔یہ اس لئے کہ انہوں نے اسی دنیا کی (بقیہ حاشیہ ) اب اس زمانہ میں تو اعلیٰ سامان موجود ہیں۔سلطنت بھی زوروں پر ہے اور انتہا کو پہنچ گئی ہے۔اب بھی کچھ کر دکھاؤ جیسا مدلل بیان قرآنِ مجید میں ہے وہ تو رات میں ہے نہ دوسری کتب میں تو یہ نہ مُفْتَر ہے نہ مُسْتَنْبَط ہے نہ مُؤلّف ہے بلکہ تَنْزِيلٌ مِّنْ عَزِيزِ الرَّحِيمِ ہے۔نِسَانُ - کلام اور زبان پارہ گوشت۔متلفظ مذکر و مؤنث۔آیت نمبر ١٠٧ - مَنْ أكْرِة - بشر طیکہ اس کا دل ایمان پر بخوبی قائم ہو۔جہاں کہ بلال ، حباب، یاسر، سميه وغیر ہا کو بہت بہت جسمانی تکالیف دی گئیں یہاں تک کہ ابو جہل نے سُمیّہ کے شرم گاہ میں نیزہ داخل کر کے مار ڈالا پھر اس کے خاوند یا سر کو قتل کر دیا بعض کو دھوپ میں لٹا کر گرم پتھر ان پر رکھے گئے مگر کسی نے بھی دلی ایمان کے خلاف زبان سے اقرار نہ کیا صرف عمار بن یاسر نے شدت تکلیف سے خلاف ایمان قلبی اقرار کر لیا جس کا ذکر آنحضرت کے حضور ہوا کہ وہ پھر گیا آپ نے فرمایا نہیں نہیں اس کا دل تو ایمان سے بھرا ہوا ہے۔عمار روتے ہوئے آنحضرت کے قدم مبارک کے پاس آئے چنانچہ آنحضرت نے اپنے دستِ مبارک سے اُن کے آنسو پونچھے اور فرمایا عمار غم نہ کھا۔اس آیت شریف سے تقیہ کا صاف رڈ اور ابطال ثابت ہوا جو بعض بزدل شیرانِ خدا کی نسبت ریا کاری اور کمینہ پن کو منسوب کرتے اور اس کا نام تقیہ رکھتے ہیں۔رض